حدیث نمبر: 14172
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بِالْحَجُونِ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَرِنِي آيَةً الْيَوْمَ لَا أُبَالِي مَنْ كَذَّبَنِي بَعْدَهَا " . فَأَتَى فَقِيلَ : ادْعُ شَجَرَةً ، فَأَقْبَلَتْ تَخُطُّ الْأَرْضَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَمَرَهَا فَرَجَعَتْ . - قَالَ دَاوُدُ : إِلَى مَنْبَتِهَا . وَقَالَ عَفَّانُ : إِلَى مَوْضِعِهَا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أُبَالِي مَنْ كَذَّبَنِي بَعْدَهَا مِنْ قَوْمِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجون کے مقام پر موجود تھے ، مشرکین نے آپ کی بات کو تسلیم نہیں کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! آج مجھے ایسی نشانی دکھا دے کہ اس کے بعد مجھے اس شخص کی کوئی پرواہ نہ ہو ، جو مجھے جھٹلائے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( فرشتہ آیا ) اور آپ سے کہا: گیا : آپ کسی درخت کو بلائیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا ) تو وہ درخت زمین پر چلتا ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا ، تو وہ واپس چلا گیا ، یہاں داؤد نامی راوی نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : اپنے اُگنے کی جگہ واپس چلا گیا ، اور عفان نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کے بعد میری قوم کا جو فرد مجھے جھٹلائے گا ، تو میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14172
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2410)»