حدیث نمبر: 14171
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُدَاوِي وَيُعَالِجُ ، فَقَالَ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّكَ تَقُولُ أَشْيَاءَ فَهَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ ؟ قَالَ : فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ لَهُ : " هَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ ؟ " . قَالَ : إِيهِ ، وَعِنْدَهُ نَخْلٌ وَشَجَرٌ . قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِذْقًا مِنْهَا ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ ، وَهُوَ يَسْجُدُ ، وَيَرْفَعُ ، وَيَسْجُدُ ، وَيَرْفَعُ ، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْجِعْ إِلَى مَكَانِكَ " . فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أُكَذِّبُكَ بِشَيْءٍ تَقُولُهُ بَعْدَهَا أَبَدًا . ثُمَّ قَالَ : " يَا عَامِرُ بْنَ صَعْصَعَةَ ، وَاللَّهِ لَا أُكَذِّبُهُ بِشَيْءٍ يَقُولُهُ بَعْدَهَا أَبَدًا " . قَالَ : وَالْعِذْقُ : النَّخْلَةُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ الشَّامِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ علاج معالجہ کیا کرتا تھا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کچھ باتیں کہتے ہیں ، تو کیا آپ اس بات میں دلچپسی رکھتے ہیں کہ میں آپ کا علاج کروں ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور اس سے فرمایا : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ میں تمہارا علاج کروں ؟ اس نے کہا: کریں ، اس وقت وہاں ایک درخت اور ایک کھجور کا درخت موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک درخت کو بلایا ، تو وہ آپ کی طرف آیا اور اس نے سجدہ کیا ، پھر اس نے سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا ، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا ، یہاں تک کہ اسی طرح وہ سجدہ کرتا ہوا ، آپ کے پاس پہنچ گیا ، اور آپ کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ ، وہ اپنی جگہ واپس چلا گیا ، تو اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! اس کے بعد آپ جو بھی بات کہیں گے ، میں کسی بھی چیز کے حوالے سے ، آپ کو جھوٹا قرار نہیں دوں گا ۔ پھر اس شخص نے کہا: اے عامر بن صعصہ ! اللہ کی قسم ! اس کے بعد یہ صاحب جو بھی بات کہیں گے ، میں کسی چیز کے حوالے سے انہیں جھوٹا قرار نہیں دوں گا ۔ راوی کہتے ہیں : عذق سے مراد ، کھجور کا درخت ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن حجاج شامی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14171
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2350) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12595) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1954)»