حدیث نمبر: 14169
وَبِسَنَدِهِ عَنْ يَعْلَى قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ إِذَا نَحْنُ بِثَلَاثِ أَشَاءَاتٍ مُتَفَرِّقَاتٍ ، فَقَالَ : " يَا يَعْلَى ، اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْأَشَاءَاتِ فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُنَّ أَنْ تَجْتَمِعْنَ بِإِذْنِ اللَّهِ " . فَمَشَيْنَ حَتَّى صِرْنَ فِي أَصْلٍ وَاحِدٍ ، فَاسْتَتَرَ بِهِنَّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا يَعْلَى ، انْطَلِقْ إِلَيْهِنَّ فَأْمُرْهُنَّ أَنْ يَرْجِعْنَ بِإِذْنِ اللَّهِ " . فَمَشَيْنَ حَتَّى رَجَعَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ إِلَى مَوْقِفِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

اسی سند کے ساتھ ، سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ” ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہمارے سامنے کھجور کے تین چھوٹے درخت آئے ، جو ایک دوسرے سے الگ الگ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان تینوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو : کہ تمہیں اللہ کے رسول یہ ہدایت کر رہے ہیں کہ تم اللہ کے حکم کے تحت اکٹھے ہو جاؤ ، تو وہ چلتے ہوئے آئے اور ایک جڑ کی مانند ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے لئے ان کے ذریعے پردہ کر لیا ، پھر آپ نے فرمایا : اے یعلیٰ تم ان کے پاس جاؤ اور انہیں یہ ہدایت کرو کہ وہ اللہ کے حکم کے تحت واپس چلے جائیں ، تو وہ چلتے ہوئے گئے ، یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14169
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (256/22)»