مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَيَوَانَاتِ ، وَالشَّجَرِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: جانوروں ، درختوں اور دیگر چیزوں کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے معجزات کا بیان
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ وَاقِمٍ عَرَضَتِ امْرَأَةٌ بَدَوِيَّةٌ بِابْنٍ لَهَا ، فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا ابْنِي قَدْ غَلَبَنِي عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ . فَقَالَ : " أَدْنِيهِ مِنِّي " . فَأَدْنَتْهُ مِنْهُ قَالَ : " افْتَحِي فَمَهُ " . فَفَتَحَتْهُ ، فَبَصَقَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " اخْسَ عَدُوَّ اللَّهِ وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " شَأْنَكِ بِابْنِكِ لَيْسَ عَلَيْهِ ، فَلَنْ يَعُودَ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ " . ثُمَّ خَرَجْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا صَحْرَاءَ دَيْمُومَةَ ، لَيْسَ فِيهَا شَجَرَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجَابِرٍ : " يَا جَابِرُ ، انْطَلِقْ فَانْظُرْ لِي مَكَانًا " - يَعْنِي لِلْوُضُوءِ - فَانْطَلَقْتُ فَلَمْ أَجِدْ إِلَّا شَجَرَتَيْنِ مُتَفَرِّقَتَيْنِ ، لَوْ إِنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا سَتَرَتَاهُ . فَرَجَعَتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَجِدْ إِلَّا شَجَرَتَيْنِ مُتَفَرِّقَتَيْنِ لَوْ أَنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا سَتَرَتَاكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْطَلِقْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ لَهُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَكَمَا : اجْتَمِعَا " . فَخَرَجْتُ فَقُلْتُ لَهُمَا ، فَاجْتَمَعَتَا حَتَّى كَأَنَّهُمَا فِي أَصْلٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ : " ائْتِهِمَا فَقُلْ لَهُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَكَمَا : ارْجِعَا كُمَّا أَنْتُمَا " . فَرَجَعَتَا . فَنَزَلْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ بَنِي مُحَارِبٍ ، فَعَرَضَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبٍ يُقَالُ لَهُ : غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ . فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَعْطِنِي سَيْفَكَ هَذَا ، فَسَلَّهُ وَنَاوَلَهُ إِيَّاهُ ، فَهَزَّهُ وَنَظَرَ إِلَيْهِ سَاعَةً ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ مَا يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ : " اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ " . فَارْتَعَدَتْ يَدُهُ حَتَّى سَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ ، فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " يَا غَوْرَثُ ، مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ " . قَالَ : لَا أَحَدَ بِأَبِي أَنْتَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اكْفِنَا غَوْرَثَ وَقَوْمَهُ " . ¤ ثُمَّ أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعُشِّ طَيْرٍ يَحْمِلُهُ ، فِيهِ فِرَاخٌ ، وَأَبَوَاهَا يَتْبَعَانِهِ وَيَقَعَانِ عَلَى يَدِ الرَّجُلِ ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَنْ كَانَ مَعَهُ فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ بِفِعْلِ هَذَيْنِ الطَّيْرَيْنِ بِفِرَاخِهِمَا ؟ وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذَيْنِ الطَّيْرَيْنِ بِفِرَاخِهِمَا " . ثُمَّ أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ وَاقِمٍ عَرَضَتْ لَنَا الْأَعْرَابِيَّةُ - الَّتِي جَاءَتْ بِابْنِهَا - بِوَطْبٍ مِنْ لَبَنٍ وَشَاةٍ ، فَأَهْدَتْهُ لَهُ . فَقَالَ : " مَا فَعَلَ ابْنُكِ ؟ هَلْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ ؟ " . قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ . وَقَبِلَ هَدِيَّتَهَا . ¤ وَأَقْبَلْنَا ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَهْبِطٍ مِنَ الْحَرَّةِ أَقْبَلَ جَمَلٌ يُرْقِلُ فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا قَالَ هَذَا الْجَمَلُ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " هَذَا جَمَلٌ جَاءَنِي يَسْتَعْدِينِي عَلَى سَيِّدِهِ ; يَزْعُمُ أَنَّهُ كَانَ يَحْرُثُ عَلَيْهِ مُنْذُ سِنِينَ ، حَتَّى إِذَا أَجْرَبَهُ وَأَعْجَفَهُ وَكَبِرَ سِنُّهُ أَرَادَ أَنْ يَنْحَرَهُ ، اذْهَبْ يَا جَابِرُ إِلَى صَاحِبِهِ فَائْتِ بِهِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْرِفُ صَاحِبَهُ . قَالَ : " إِنَّهُ سَيَدُلُّكَ عَلَيْهِ " . قَالَ : فَخَرَجَ بَيْنَ يَدَيْهِ مُعَنِّقًا حَتَّى وَقَفَ بِي فِي مَجْلِسِ بَنِي خَطْمَةَ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ ؟ قَالُوا : هَذَا جَمَلُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ، فَجِئْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ مَعِي حَتَّى جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جَمَلُكَ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ ، زَعَمَ أَنَّكَ حَرَثْتَ عَلَيْهِ زَمَانًا حَتَّى أَجَرَبْتَهُ ، وَأَعْجَفَتْهُ وَكَبِرَ سِنُّهِ ، أَرَدْتَ أَنْ تَنْحَرَهُ ؟ " . فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّ ذَلِكَ كَذَلِكَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِعْنِيهِ " . قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَابْتَاعَهُ مِنْهُ ، ثُمَّ سَيَّبَهُ فِي الشَّجَرِ حَتَّى نَصَبَ سَنَامًا ، فَكَانَ إِذَا اعْتَلَّ عَلَى بَعْضِ الْمُهَاجِرِينَ أَوِ الْأَنْصَارِ مِنْ نَوَاضِحِهِمْ شَيْءٌ أَعْطَاهُ ايَّاهُ ، فَمَكَثَ بِذَلِكَ زَمَانًا . ¤ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ : كَانَتْ غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ تُسَمَّى غَزْوَةَ الْأَعَاجِيبِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنِ سُفْيَانَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، جب ہم واقم کی پتھریلی زمین پر پہنچے ، تو ایک دیہاتی عورت اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر سامنے آئی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا ہے ، اس پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے قریب کرو ، اس عورت نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا منہ کھولو ، اس عورت نے اس کا منہ کھولا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! دفع ہو جاؤ ! میں اللہ کا رسول ہوں ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے عورت تم اپنے بیٹے کو سنبھالو ، اب اس پر کچھ نہیں ہے ، اور پہلے جو مصیبت اسے لاحق ہوتی تھی ، اب دوبارہ اس کے پاس نہیں آئے گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس کے بعد ہم نے کھلے صحراء میں ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، وہاں کوئی درخت نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے جابر ! تم جاؤ اور ہمارے لئے کوئی جگہ تلاش کرو ، یعنی ایسی جگہ جہاں قضائے حاجت کی جا سکے ، راوی کہتے ہیں : میں گیا ، مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی ، صرف دو درخت نظر آئے ، جو ایک دوسرے سے دور تھے ، لیکن اگر وہ دونوں اکٹھے ہو جاتے ، تو وہ پردہ بن سکتے تھے ، میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے دو درخت ملے ہیں ، جو ایک دوسرے سے الگ ہیں ، اگر وہ دونوں اکٹھے ہوتے ، تو پھر وہ دونوں آپ کے لئے پردہ کر سکتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو : کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ کہہ رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ ! میں وہاں سے نکلا ، میں نے ان دونوں سے یہ کہا: تو وہ دونوں اکٹھے ہو گئے ، یہاں تک کہ وہ دونوں یوں لگ رہے تھے ، جیسے وہ جڑ سے نکلے ہوں ، میں پھر واپس آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ نے قضائے حاجت کی ، پھر آپ واپس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تم دونوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ تم دونوں اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ ! تو وہ دونوں واپس چلے گئے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے بنو محارب کی ایک وادی میں پڑاؤ کیا ، بنو محارب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کے سامنے آیا ، اس کا نام غورث بن حارث تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لٹکائی ہوئی تھی ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اپنی یہ تلوار تو مجھے دکھائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار نکالی اور وہ اسے پکڑا دی ، اس نے اس تلوار کو لہرایا اسے ایک نظر دیکھا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا اور بولا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا ، تو اس کے ہاتھ پر کپکپی طاری ہو گئی ، یہاں تک کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار پکڑی اور فرمایا : اے غورث ! تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ اس نے کہا: میرے والد آپ پر قربان ہوں ، ایسا کوئی نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! غورث اور اس کی قوم کے حوالے سے ہماری کفایت کر دے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم واپس آ رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص پرندے کا گھونسلا اُٹھا کے کے آیا جس میں پرندے کے بچے موجود تھے ، اور اس کے ماں باپ اس شخص کے پیچھے آ رہے تھے ، وہ دونوں ( پرندے ) اس شخص کے ہاتھ پر آ کر بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ موجود افراد کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : اپنے بچوں کے بارے میں ان دو پرندوں کے طرز عمل پر کیا تم حیران نہیں ہو رہے ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، جتنے یہ پرندے اپنے بچوں پر رحم کرنے والے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر جب ہم واپس آ رہے تھے اور واقم کی پتھریلی سرزمین پر پہنچے ، تو ہمارے سامنے وہی دیہاتی عورت آ گئی ، جو اپنے بیٹے کو لے کر آئی تھی ، اس کے پاس ایک مشکیزہ تھا ، جو دودھ کا تھا اور ایک بکری تھی ، وہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر پیش کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے بیٹے کا کیا حال ہے ؟ اسے جو تکلیف لاحق ہوتی تھی ، کیا پھر کوئی تکلیف لاحق ہوئی ، اس عورت نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، جو چیز اسے پہلے لاحق ہوتی تھی ، اس میں سے کچھ بھی اسے دوبارہ لاحق نہیں ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کا تحفہ قبول کر لیا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم آ رہے تھے ، جب ہم ” حرہ “ کے مقام پر نیچے اترنے والی جگہ پر پہنچے ، تو ایک اونٹ آیا جو چلتا ہوا آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اونٹ میرے پاس آیا ہے ، اور اپنے مالک کے خلاف مجھ سے شکایت کر رہا ہے ، اس کا یہ کہنا ہے کہ اس کا مالک کئی سال تک اس پر کھیتی باڑی کرتا رہا ( یعنی پانی لانے کے لئے استعمال کرتا رہا ) یہاں تک کہ جب یہ خارش زدہ ہو گیا کمزور ہو گیا اور بوڑھا ہو گیا ، تو اس کے مالک نے یہ ارادہ کیا کہ اسے ذبح کر دے ، اے جابر ! تم اس کے مالک کے پاس جاؤ اور اسے لے کر آؤ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کے مالک کو نہیں پہچانتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اونٹ تمہاری رہنمائی کر دے گا ، تو وہ اونٹ تیزی سے چلتا ہوا ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے آگے چلنے لگا ، یہاں تک کہ وہ بنو خطمہ کی محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، میں نے کہا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ فلاں بن فلاں کا اونٹ ہے ، میں اس کے پاس گیا اور کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ! وہ شخص میرے ساتھ نکلا ، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تمہارے اونٹ نے تمہارے خلاف شکایت کی ہے ، اس کا یہ کہنا ہے تم ایک طویل عرصے تک اس پر کھیتی باڑی کرتے رہے ہو ، یہاں تک کہ جب یہ بوڑھا اور کمزور ہو گیا ، تو تم نے اسے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ، اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، ایسا ہی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے مجھے فروخت کر دو ! اس نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وہ اونٹ خرید لیا اور پھر اسے ایک درخت میں سائبہ کر دیا ۔ محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں : غزوہ ذات الرقاع کو عجیب و غریب امور والا غزوہ بھی کہتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن سفیان ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔