حدیث نمبر: 14166
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : إِنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ إِلَى مَكَّةَ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْغَائِطِ أَبْعَدَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ . قَالَ : فَبَصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَجَرَتَيْنِ مُتَبَاعِدَتَيْنِ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، اذْهَبْ إِلَى هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ ، فَقُلْ لَهُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا لَهُ لِيَتَوَارَى بِكُمَا " . فَمَشَتِ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاجَتَهُ ، ثُمَّ رَجَعَتَا إِلَى مَكَانِهِمَا . ثُمَّ مَضَى حَتَّى أَتَيْنَا أَزِقَّةَ الْمَدِينَةِ ، فَجَاءَ بَعِيرٌ يَشْتَدُّ حَتَّى سَجَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ ؟ " . قَالُوا : فُلَانٌ ، فَقَالَ : " ادْعُوهُ " . فَأَتَوْا بِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَشْكُوكَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْبَعِيرُ كُنَّا نَسْنُو عَلَيْهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً ، ثُمَّ أَرَدْنَا نَحْرَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَكَا ذَلِكَ ، بِئْسَمَا جَازَيْتُمُوهُ ; اسْتَعْمَلْتُمُوهُ عِشْرِينَ سَنَةً حَتَّى إِذَا أَرَقَّ عَظْمُهُ ، وَرَقَّ جِلْدُهُ ، أَرَدْتُمْ نَحْرَهُ ؟ بِعْنِيهِ " . قَالَ : بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوُجِّهَ نَحْوَ الظَّهْرِ ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَجَدَ لَكَ هَذَا الْبَعِيرُ وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَسْجُدَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ ، لَوْ سَجَدَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا إِنَّهُ قَالَ : فِي غَزْوَةِ حُنَيْنَ . وَزَادَ فِيهِ : ثُمَّ أَصَابَ النَّاسَ عَطَشٌ شَدِيدٌ . فَقَالَ لِي : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ، الْتَمِسْ لِي مَاءً " . فَأَتَيْتُهُ بِفَضْلِ مَاءٍ وَجَدْتُهُ فِي إِدَاوَةٍ ، فَأَخَذَهُ فَصَبَّهُ فِي رَكْوَةٍ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِيهَا وَسَمَّى ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَحَادَرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، فَشَرِبَ النَّاسُ ، وَتَوَضَّئُوا مَا شَاءُوا . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ : زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ ، وَأَسَانِيدُ الطَّرِيقَيْنِ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مکہ کی طرف ایک سفر میں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ اتنی دور چلے جاتے تھے کہ کوئی آپ کو نہ دیکھ سکے ، راوی کہتے ہیں : دو درختوں کو دیکھا ، جو ایک دوسرے سے دور تھے ، تو آپ نے فرمایا : اے ابن مسعود ! ان دو درختوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ ، تاکہ وہ تمہاری اوٹ میں ہو جائیں ، تو ان دو میں سے ایک چلتا ہوا ، دوسرے کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی ، پھر وہ دونوں درخت اپنی جگہ واپس چلے گئے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کی گلیوں کے پاس پہنچے ، تو ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سجدے میں چلا گیا ، پھر وہ آپ کے سامنے کھڑا ہوا ، اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس اونٹ کا مالک کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : فلاں شخص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے بلا کے لاؤ ، اسے لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : یہ تمہاری شکایت کر رہا ہے ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس اونٹ پر ہم پانی لاد کر لاتے رہے ہیں ، بیس سال تک ہم ایسا کرتے رہے ہیں ، اب ہم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے یہی شکایت کی ہے ، تم اسے برا بدلہ دے رہے ہو ، تم بیس سال تک اسے کام میں استعمال کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب اس کی ہڈیاں کمزور ہو گئیں ، اس کی جلد کمزور ہو گئی ، تو تم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کر لیا ، تم اسے مجھے فروخت کر دو ! اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کا ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا ، تو اسے اونٹوں کی طرف بھیج دیا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اس اونٹ نے آپ کو سجدہ کیا ہے ، تو ہم تو سجدہ کرنے کے زیادہ حق دار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ کوئی ایک دوسرے کو سجدہ کرے ، اگر کسی نے کسی دوسرے کو سجدہ کرنا ہوتا ، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ غزوہ حنین کا واقعہ ہے ۔ اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” پھر لوگوں کو شدید پیاس لاحق ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عبداللہ ! میرے لئے پانی تلاش کرو ، تم مجھے ایک برتن میں جو بچا ہوا پانی ملا تھا ، وہ لے کر میں آپ کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر ایک پیالے میں ڈالا ، پھر آپ نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا ، اور بسم اللہ پڑھی ، تو آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹنے لگا ، لوگوں نے جتنا چاہا ، پانی پی لیا اور وضو کر لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، معجم اوسط کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ، اس روایت کے دونوں طریق کی اسانید ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14166
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2412) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10016)»