مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَيَوَانَاتِ ، وَالشَّجَرِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: جانوروں ، درختوں اور دیگر چیزوں کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے معجزات کا بیان
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ سَفَرٍ حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ ، إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ قَالَ : فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ فَدَعَا الْبَعِيرَ ، فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ . قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَاتُوا خِطَامًا " . فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر سے آ رہے تھے ، یہاں تک کہ بنو نجار کے ایک باغ تک پہنچے ، اس میں ایک اونٹ موجود تھا ، اور کوئی شخص اس باغ میں داخل ہوتا تھا ، تو وہ اونٹ اس پر حملہ کر دیتا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ اس باغ میں آئے ، آپ نے اونٹ کو بلایا تو وہ آ گیا ، اس نے اپنے ہونٹ زمین پر رکھے ہوئے تھے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لگام لے کر آؤ ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لگام ڈالی ، اور اسے اس کے مالک کے حوالے کیا ، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہر چیز یہ بات جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، صرف نافرمان جنات اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔