حدیث نمبر: 14159
وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي إِحْدَى رِوَايَاتِهِ : فَمَرَّ عَلَيْهِ بَعِيرٌ مَادٌّ بِجِرَانِهِ يَرْغُو ، فَقَالَ : " عَلَيَّ بِصَاحِبِ هَذَا " . فَجَاءَ فَقَالَ : " هَذَا يَقُولُ نَتَجْتُ عِنْدَهُمْ ، فَاسْتَعْمَلُونِي حَتَّى إِذَا كَبِرْتُ أَرَادُوا أَنْ يَنْحَرُونِي " . ¤ وَقَالَ فِيهَا : " مَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا كَفَرَةَ - أَوْ فَسَقَةَ - الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " . ¤
محمد محی الدین

امام طبرانی نے اپنی ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک اونٹ گزرا ، جس نے اپنی گردن جھکائی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے مالک کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہہ رہا ہے کہ میں ان کے ہاں پیدا ہوا ، یہ لوگ مجھے کام میں استعمال کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، تو انہوں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ یہ مجھے قربان کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہاں موجود ہر چیز یہ بات جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، صرف کافر ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) صرف فاسق جنات اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (161/22)»