حدیث نمبر: 14158
وَفِي رِوَايَةٍ : ثُمَّ سِرْنَا وَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَنَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى غَشِيَتْهُ ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ ذَكَرْتُ لَهُ ، فَقَالَ : " هِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : پھر ہم روانہ ہوئے ، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، تو ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کر دیا ، پھر وہ واپس اپنی جگہ پر چلا گیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے ، تو میں نے آپ کے سامنے یہ ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس درخت نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی تھی کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے ، تو پروردگار نے اُسے اجازت دیدی ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14158
درجۂ حدیث محدثین: وأحد إسنادي أحمد رجاله رجال الصحيح.
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (173/4)»