حدیث نمبر: 14156
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبَلِي ، وَلَا يَرَاهَا أَحَدٌ بَعْدِي : لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي سَفَرٍ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ جَالِسَةٍ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا صَبِيٌّ أَصَابَهُ بَلَاءٌ ، وَأَصَابَنَا مِنْهُ بَلَاءٌ يُؤْخَذُ فِي الْيَوْمِ لَا أَدْرِي كَمْ مَرَّةً . قَالَ : " نَاوِلِينِيهِ " . فَحَمَلَتْهُ إِلَيْهِ ، فَحَمَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَاسِطَةِ الرَّحْلِ ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ ، وَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثًا ، وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، احْبِسْ عَدُوَّ اللَّهِ " . ثُمَّ نَاوَلَهَا إِيَّاهُ ، فَقَالَ : " الْقَيْنَا فِي الرَّجْعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَأَخْبِرِينَا مَا فَعَلَ " . قَالَ : فَذَهَبْنَا وَرَجَعْنَا فَوَجَدْنَاهَا فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مَعَهَا شِيَاهٌ ثَلَاثٌ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَ صَبِيُّكِ ؟ " . فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا حَسَسْنَا مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى السَّاعَةِ ، فَاجْتَرِرْ هَذِهِ الْغَنَمَ . قَالَ : " انْزِلْ فَخُذْ مِنْهَا وَاحِدَةً وَرُدَّ الْبَقِيَّةَ " . قَالَ : وَخَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْجِنَانِ حَتَّى إِذَا بَرَزْنَا قَالَ : " انْظُرْ وَيْحَكَ هَلْ تَرَى شَيْئًا يُوَارِينِي ؟ " . قُلْتُ : مَا أَرَى شَيْئًا يُوَارِيكَ إِلَّا شَجَرَةً مَا أَرَاهَا تُوَارِيكَ . قَالَ : " فَمَا بِقُرْبِهَا ؟ " . قُلْتُ : شَجَرَةٌ مِثْلُهَا أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا . قَالَ : " اذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا بِإِذْنِ اللَّهِ " . قَالَ : فَاجْتَمَعَتَا فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ قَالَ : " اذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا " . فَرَجَعَتْ . قَالَ : وَكُنْتُ عِنْدَهُ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَ جَمَلٌ يُخَبِّبُ حَتَّى ضَرَبَ بِجِرَانِهِ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ ! انْظُرْ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ ؟ إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا " . فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ صَاحِبَهُ ، فَوَجَدْتُهُ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُ جَمَلِكَ هَذَا ؟ " . قَالَ : وَمَا شَأْنُهُ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا شَأْنُهُ ؟ عَمِلْنَا عَلَيْهِ ، وَنَضَحْنَا عَلَيْهِ ، حَتَّى عَجَزَ عَنِ السِّقَايَةِ ، فَأْتَمَرْنَا الْبَارِحَةَ أَنْ نَنْحَرَهُ وَنُقَسِّمَ لَحْمَهُ . قَالَ : " لَا تَفْعَلْ هَبْهُ لِي ، أَوْ بِعْنِيهِ " . قَالَ : بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : فَوَسَمَهُ بِمَيْسَمِ الصَّدَقَةِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے تین ایسی چیزیں دیکھی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھی ہیں اور نہ میرے بعد کوئی دیکھے گا ، میں آپ کے ساتھ سفر پر جا رہا تھا ، راستے میں کسی جگہ ہم پہنچے تو ہمارا گزر ، ایک بیٹھی ہوئی خاتون کے پاس سے ہوا ، جس کے ساتھ اس کا بچہ موجود تھا ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس بچے کو بلا لاحق ہو گئی ہے ، اور ہمیں اس کی وجہ سے آزمائش کا سامنا ہے ، اسے دن میں کئی مرتبہ دورہ پڑتا ہے ، مجھے نہیں پتہ کتنی مرتبہ پڑتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے مجھے پکڑاؤ ، اس عورت نے اس بچے کو اٹھا کر آپ کی طرف بڑھایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اور اپنے پالان کے درمیانی حصے میں رکھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں تین مرتبہ پھونک ماری اور پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں اللہ کا بندہ ہوں ، اے اللہ کے دشمن ! دفع ہو جاؤ ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بچہ اس عورت کو پکڑایا اور فرمایا : واپسی پر ہم سے اسی جگہ ملنا اور ہمیں بتانا کہ اس کا کیا حال ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ہم وہاں سے روانہ ہو گئے ، جب ہم واپس آئے ، تو ہم نے اس خاتون کو اسی جگہ پایا ، اس کے پاس تین بکریاں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے بچے کا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اس کے بعد سے لے کر اب تک ہمیں اس کے حوالے سے کوئی چیز محسوس نہیں ہوئی ، آپ یہ بکریاں قبول کریں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے ) فرمایا : تم اترو اور اس سے ایک بکری لے لو اور باقی واپس کر دو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھلے میدان کی طرف نکلا ، یہاں تک کہ جب ہم اس جگہ کے قریب آئے ، جہاں قضائے حاجت کی جاتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے ، جو میرے لئے پردہ بن جائے ، میں نے عرض کی : مجھے تو کوئی ایسی چیز نظر نہیں آ رہی ، جو آپ کے لئے پردہ بن جائے ، البتہ ایک درخت ہے جس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ آپ کے لئے رکاوٹ بن سکتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تقریباً کتنا بڑا ہے ؟ میں نے جواب دیا : وہ ایک درخت ہے ، اور اس کی مانند ایک اور درخت ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے قریب ایک اور درخت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور انہیں یہ کہو کہ اللہ کے رسول تم دونوں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اللہ کے اذن کے تحت اکٹھے ہو جاؤ ، راوی کہتے ہیں : وہ دونوں اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں قضائے حاجت کی ، پھر آپ واپس تشریف لائے آپ نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر واپس چلا جائے ، تو وہ واپس چلے گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک اونٹ آیا اور اس نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی گردن ڈال دی ، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ یہ کس کا اونٹ ہے ؟ اس کا کوئی مخصوص معاملہ لگتا ہے ، میں اس اونٹ کے مالک کو تلاش کرنے کے لئے نکلا ، تو میں نے اسے پایا کہ وہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ، میں اسے بلا کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا معاملہ ہے ؟ ہم اسے کام میں استعمال کرتے رہے ہیں اور اس پر پانی لاد کے لاتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ یہ پانی لانے کے قابل نہیں رہا ، توکل ہم نے یہ طے کیا کہ ہم اسے قربان کر دیتے ہیں اور اس کا گوشت تقسیم کر لیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ! اسے مجھے ہبہ کر دو ، یا یہ مجھے فروخت کر دو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کا ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کا مخصوص نشان لگوایا اور اسے بھجوا دیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14156
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطيراني فى المعجم الصغير (171/4)»