حدیث نمبر: 14155
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُ فَحْلَانِ فَاغْتَلَمَا ، فَأَدْخَلَهُمَا حَائِطًا فَسَدَّ عَلَيْهِمَا الْبَابَ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ لَهُ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ مَعَ نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ . فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي جِئْتُ فِي حَاجَةٍ ، وَإِنَّ فَحْلَيْنِ لِيَ اغْتَلَمَا ، وَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا حَائِطًا وَسَدَدْتُ عَلَيْهِمَا الْبَابَ ، فَأُحِبُّ أَنْ تَدْعُوَ لِي أَنْ يُسَخِّرَهُمَا اللَّهُ لِي . فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " قُومُوا مَعَنَا " . فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى الْبَابَ فَقَالَ : " افْتَحْ " . فَأَشْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " افْتَحْ " . فَفَتَحَ الْبَابَ فَإِذَا أَحَدُ الْفَحْلَيْنِ قَرِيبٌ مِنَ الْبَابِ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشُدُّ بِرَأْسِهِ وَأُمَكِّنُكَ مِنْهُ " . فَجَاءَ بِخِطَامٍ ، فَشَدَّ رَأْسَهُ وَأَمْكَنَهُ مِنْهُ ، ثُمَّ مَشَى إِلَى أَقْصَى الْحَائِطِ إِلَى الْفَحْلِ الْآخَرِ ، فَلَمَّا رَآهُ وَقَعَ لَهُ سَاجِدًا ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ : " ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشُدُّ رَأْسَهُ " . فَشَدَّ رَأْسَهُ وَأَمْكَنَهُ مِنْهُ . ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ فَإِنَّهُمَا لَا يَعْصِيَانِكَ " . فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ قَالُوا : هَذَانِ فَحْلَانِ لَا يَعْقِلَانِ سَجَدَا لَكَ ; أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ ؟ قَالَ : " لَا آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ ، وَلَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا يَسْجُدُ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَاسْمُهُ الْحَكَمُ بْنُ طَهْمَانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے دو اونٹ تھے ، اس نے ان دونوں کو ایک باغ میں داخل کیا اور دروازہ بند کر دیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس کا یہ ارادہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے لئے دعا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ تشریف فرما تھے ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں ، میرے دو اونٹ ہیں ، وہ دونوں سرکش ہو گئے ہیں ، میں نے ان دونوں کو باغ میں داخل کیا ہے ، اور دروازہ بند کر دیا ہے ، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں میرے لئے مسخر کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم لوگ ہمارے ساتھ اٹھو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، پھر آپ دروازے پر آئے ، آپ نے فرمایا : دروازہ کھولو ! وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دروازہ کھولو ، اس نے دروازہ کھولا تو دو اونٹوں میں سے ایک دروازے کے قریب موجود تھا ، جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کے سامنے سجدہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس کوئی ایسی چیز لے کر آؤ ، جس کے ذریعے میں اس کے سر کو باندھ دوں ، اور اسے تمہارے ق ابومیں دے دوں ، وہ شخص لگام لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر کو باندھا اور اس کو ق ابومیں کر لیا ، پھر آپ باغ کے ایک کونے میں تشریف لے گئے ، جہاں دوسرا اونٹ موجود تھا ، جب اس نے آپ کو دیکھا تو وہ بھی سجدے میں چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : تم میرے پاس کوئی چیز لے کر آؤ ، جس کے ذریعے میں اس کے سر کو باندھ دوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر کو باندھ دیا اور اسے اس شخص کے ق ابومیں دے دیا ، پھر آپ نے فرمایا : تم جاؤ ! یہ دونوں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اس صورت حال کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی : یہ دو اونٹ جو عقل نہیں رکھتے ہیں ، انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ہے ، کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں کسی کو یہ اجازت نہیں دوں گا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، اگر میں نے کسی کو یہ اجازت دینی ہوتی کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ ہدایت کرنی تھی کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعزہ دباغ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کا نام حکم بن طہمان ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14155
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12003)»