حدیث نمبر: 14154
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ قَوْمٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بَعِيرًا لَنَا قَطَّ فِي حَائِطٍ . فَجَاءَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " تَعَالَ " . فَجَاءَ مُطَأْطَأً رَأْسَهُ حَتَّى خَطَمَهُ وَأَعْطَاهُ أَصْحَابَهُ . فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَأَنَّهُ عَلِمَ أَنَّكَ نَبِيٌّ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَحَدٌ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي نَبِيٌّ ، إِلَّا كَفَرَةَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا اونٹ کھل کر باغ میں چلا گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم آگے آؤ ، تو وہ اپنے سر کو جھکا کر آگے آ گیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لگام ڈال دی ، اور وہ اونٹ اس کے مالکان کے حوالے کر دیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا سول اللہ ! یوں لگتا ہے جیسے یہ جانتا ہے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دونوں کناروں کے درمیان موجود ہر چیز یہ جانتی ہے کہ میں نبی ہوں ، سوائے کافر جنوں اور انسانوں کے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14154
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (744/1)»