مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَيَوَانَاتِ ، وَالشَّجَرِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: جانوروں ، درختوں اور دیگر چیزوں کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے معجزات کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَهُمْ جَمَلٌ يَسْنُونَ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ اسْتُصْعِبَ عَلَيْهِمْ فَمَنَعَهُمْ ظَهْرَهُ ، وَأَنَّ الْأَنْصَارَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّهُ كَانَ لَنَا جَمَلٌ نَسْتَنِي عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ اسْتُصْعِبَ عَلَيْنَا ، وَمَنَعَنَا ظَهْرَهُ ، وَقَدْ عَطِشَ الزَّرْعُ وَالنَّخْلُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " قُومُوا " . فَقَامُوا ، فَدَخَلَ الْحَائِطَ وَالْجَمَلُ فِي نَاحِيَتِهِ ، فَمَشَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوَهُ . فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ صَارَ مِثْلَ الْكَلْبِ الْكَلِبِ ، وَإِنَّا نَخَافُ عَلَيْكَ صَوْلَتَهُ . قَالَ : " لَيْسَ عَلَيَّ مِنْهُ بَأْسٌ " . فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ نَحْوَهُ ، حَتَّى خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَاصِيَتِهِ أَذَلَّ مَا كَانَتْ قَطُّ حَتَّى أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ . فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا بَهِيمَةٌ لَا يَعْقِلُ يَسْجُدُ لَكَ ، وَنَحْنُ نَعْقِلُ ; فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ ! قَالَ : " لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبِشْرٍ ، وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا ; لِعِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا ، لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةٌ تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ حَفْصِ ابْنِ أَخِي أَنَسٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کا ایک گھرانہ تھا ، جن کے پاس ایک اونٹ تھا جس پر وہ پانی لاد کر لایا کرتے تھے انہیں اس اونٹ کو ق ابوکرنے میں دشواری پیش آئی ، اس اونٹ نے اپنی پشت پر کچھ لادنے سے روک دیا ، انصار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : ہمارا ایک اونٹ تھا ، جس پر ہم پانی لاد کر لایا کرتے تھے ، اب اس کو ق ابوکرنا ہمارے لئے دشوار ہو گیا ، وہ ہمیں اپنی پشت استعمال کرنے نہیں دیتا ہے جب کہ صورت حال یہ ہے کہ کھیت اور کھجوروں کے درخت پیاسے ہیں ( یعنی انہیں پانی لگانے کی ضرورت ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اٹھو ، وہ لوگ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں تشریف لائے ، وہ اونٹ باغ کے ایک کونے میں موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف چل کر جانے لگے ، تو انصار نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک کتے کی مانند ہو چکا ہے ، ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ کو نقصان پہنچائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا ، جب اونٹ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ آپ کی طرف چلتا ہوا آیا ، اور آپ کے سامنے سجدے میں گر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی کو پکڑا ، تو وہ اتنا فرمانبردار ہو چکا تھا کہ پہلے اتنا فرمانبردار نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے کام میں داخل کیا ، آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ جانور جو عقل نہیں رکھتا ، یہ آپ کو سجدہ کر رہا ہے ، ہم تو عقل رکھتے ہیں ، ہم اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی انسان کے لئے یہ موزوں نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے ، اگر کسی انسان کے لئے یہ موزوں ہوتا کہ وہ کسی انسان کو سجدہ کرے ، تو میں نے بیوی کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ، کیونکہ شوہر کا حق اس عورت پر زیادہ ہے ، یہاں تک کہ اگر اس کی سر کی مانگ سے لے کر اس کے قدموں تک پھوڑے نکلے ہوئے ہوں ، جن میں سے پیپ اور کیچ لہو بہتا ہو ، پھر وہ عورت اپنے شوہر کے پاس آ کر اس کو چاٹ لے ، تو بھی وہ اس شوہر کے حق کو ادا نہیں کر سکتی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حفص نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔