حدیث نمبر: 14150
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسْيَانَ الْقُرْآنِ ، فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ ، فَقَالَ : " يَا شَيْطَانُ ، اخْرُجْ مِنْ صَدْرِ عُثْمَانَ " . فَمَا نَسِيتُ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدُ أَحْبَبْتُ أَنْ أَذْكُرَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ بِشْرٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَفِي أَحَادِيثَ نَحْوُ هَذَا الْمَعْنَى ، فِي أَثْنَائِهَا فِي مَوَاضِعِهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قرآن بھول جانے کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور فرمایا : اے شیطان ! عثمان کے سینے سے نکل جا ! راوی کہتے ہیں : تو اس کے بعد میں نے جس بھی آیت کو یاد کرنے کی کوشش کی ، اس میں سے میں کسی کو نہیں بھولا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن بشر ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس مفہوم سے تعلق رکھنے والی کچھ احادیث کتاب کے دوران مختلف مقامات پر آئیں ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14150
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ, يحيى بن معين انه قال عثمان بن بشر الثقفى ثقة
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8347)»