مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي طَاعَتِهِمْ . باب: ان کا اطاعت کرنا
وَعَنْ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ الْوَازِعِ ، عَنْ أَبِيهَا : إِنَّ جَدَّهَا الْوَازِعَ انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقَ مَعَهُ بِابْنٍ لَهُ مَجْنُونٍ ، أَوِ ابْنِ أُخْتٍ لَهُ . قَالَ جَدِّي : فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ مَعِي ابْنَ أَخٍ لِي - أَوِ ابْنَ أُخْتٍ لِي - مَجْنُونًا ، آتِيكَ بِهِ فَتَدْعُو اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ . قَالَ : " ائْتِنِي بِهِ " . فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي الرِّكَابِ ، فَأَطْلَقْتُ عَنْهُ ، وَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ ثِيَابَ السَّفَرِ ، وَأَلْبَسْتُهُ ثَوْبَيْنِ حَسَنَيْنِ ، وَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ادْنُهِ مِنِّي ، وَاجْعَلْ ظَهْرَهُ مِمَّا يَلِينِي " . قَالَ : فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ ثَوْبِهِ مِنْ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ ظَهْرَهُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ ، وَيَقُولُ : " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ ! اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ ! " . فَأَقْبَلَ يَنْظُرُ نَظَرَ الصَّحِيحِ لَيْسَ نَظَرَهُ الْأَوَّلَ ، ثُمَّ أَقْعَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَدَعَا لَهُ فَمَسَحَ وَجْهَهُ ، فَلَمْ يَكُنْ فِي الْوَفْدِ أَحَدٌ بَعْدَ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُفَضَّلُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأُمُّ أَبَانٍ ، لَمْ يَرْوِ عَنْهَا غَيْرُ مَطَرٍ . ¤سیده ام ابان بنت وازع رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : ان کے دادا سیدنا وازع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے ، ان کے ساتھ ان کا ایک بیٹا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ان کا ایک بھانجا تھا ، جو جنون کا شکار تھا میرے دادا کہتے ہیں جب ہم لوگ مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ساتھ میرا ایک بھتیجا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) میرا ایک بھانجا ہے ، جسے جنون لاحق ہے ، میں اسے آپ کے پاس لے کر آیا ہوں ، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کر آؤ ، راوی کہتے ہیں میں اس لڑکے کی طرف گیا جو سواروں میں موجود تھا ، میں نے اسے چھڑوایا ، اس کے سفر والے لباس کو اتروا کر اسے دو عمدہ کپڑے پہنائے ، پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے میرے قریب کرو اور اس کی پشت میری طرف کر دو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گریبان کی طرف سے اوپر کی طرف سے اور نیچے کی طرف سے اسے پکڑا اور اس کی پشت پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی ، آپ نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! نکل جا ، اے اللہ کے دشمن ! نکل جا ، تو اس لڑکے نے صحیح طور پر دیکھنا شروع کر دیا ، اور اس کی آنکھیں پہلے جیسے نہیں رہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سامنے بٹھایا ، اس کے لئے دعا کی ، اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بعد اس وفد میں شامل کوئی ایسا فرد نہیں تھا ، جو اس لڑکے پر فضیلت رکھتا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ام ابان نامی خاتون سے مطر کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔