حدیث نمبر: 14151
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمِّي : أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَمَى الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، وَخَلْفَهُ إِنْسَانٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ أَنْ يُصِيبُوهُ بِالْحِجَارَةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ، وَإِذَا رَمَيْتُمْ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " . ثُمَّ أَقْبَلَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنِي هَذَا ذَاهِبُ الْعَقْلِ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ لَهَا : " ائْتِينِي بِمَاءٍ " . فَأَتَتْهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ، فَتَفَلَ فِيهِ وَغَسَلَ فِيهِ وَجْهَهُ ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبِي فَاغْسِلِيهِ بِهِ وَاسْتَشْفِي اللَّهَ " . ¤ فَقُلْتُ لَهَا : هَبِي لِي مِنْهُ قَلِيلًا لِابْنِي هَذَا ، فَأَخَذْتُ مِنْهُ قَلِيلًا بِأَصَابِعِي ، فَمَسَحْتُ بِهَا شَفَةَ ابْنِي ، فَكَانَ مِنْ أَبَرِّ النَّاسِ ، فَسَأَلَتُ الْمَرْأَةَ بَعْدُ : مَا فَعَلَ ابْنُهَا ؟ قَالَتْ : بَرِئَ أَحْسَنَ الْبُرْءِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ رَمْيَ الْحِجَارَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سلیمان بن عمرو بن احوص ازدی بیان کرتے ہیں : میری والدہ نے مجھے یہ بتائی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ وادی کے نشیبی حصے سے جمرات کو کنکریاں مار رہے تھے ، آپ کے پیچھے ایک فرد موجود تھا ، جو آپ کو لوگوں سے بچا رہا تھا کہ ان کے پتھر آپ کو لگیں اور آپ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تم ایک دوسرے کو نہ مارنا ، جب تم پتھر مارو تو ایسے پتھر مارنا ، جو چٹکی میں آ سکیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ، تو ایک خاتون اپنے بیٹے کو آپ کے پاس لے کر آئی ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے اس بیٹے کی عقل رخصت ہو گئی ہے ، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : میرے پاس پانی لے کر آؤ ! وہ عورت پتھر سے بنے ہوئے پیالے میں پانی لے کر آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں لعاب دہن ڈالا ، آپ نے اس میں اپنے چہرے کو دھویا ، پھر اس میں دعا دی ، پھر فرمایا : تم جاؤ اور اس کے ذریعے اس لڑکے کو غسل دو ، اور اللہ تعالیٰ سے شفاء طلب کرو ! راوی خاتون کہتی ہیں : میں نے اس خاتون سے کہا: اس میں سے تھوڑا سا پانی میرے اس بیٹے کے لئے مجھے بھی دے دو ، تو میں نے اس میں سے تھوڑا سا پانی انگلیوں کے ذریعے لے لیا اور اس کے ذریعے اپنے بیٹے پر ہاتھ پھیر دیا ، تو وہ سب سے زیادہ تندرست ہو گیا ، بعد میں ، میں نے اس خاتون سے دریافت کیا : اس کے بیٹے کا کیا حال ہے ؟ تو اس نے بتایا : کہ وہ بالکل ٹھیک ہو چکا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے ، جمرات کو کنکریاں مارنے والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14151
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (379/6)»