حدیث نمبر: 14148
وَعَنِ الْوَازِعِ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْأَشَجَّ : الْمُنْذِرَ بْنَ ابْنِ عَاصِمٍ ، أَوْ عَامِرَ بْنَ الْمُنْذِرِ ، وَمَعَهُمْ رَجُلٌ مُصَابٌ ، فَانْتَهَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَبُوا عَنْ رَوَاحِلِهِمْ ، فَقَبَّلُوا يَدَهُ ، ثُمَّ نَزَلَ الْأَشَجُّ فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ ، وَأَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَفَتَحَهَا ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَشُجُّ ، إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ : الْحِلْمُ ، وَالْأَنَاةُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أَتَخَلَّقُهُمَا ، أَوْ جَبَلَنِي اللَّهُ عَلَيْهِمَا ؟ قَالَ : " بَلْ جَبَلَكَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا " . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ . فَقَالَ الْوَازِعُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ مَعِي خَالًا مُصَابًا ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ . قَالَ : " أَيْنَ هُوَ ؟ ائْتِنِي بِهِ " . قَالَ : فَصَنَعَتُ بِهِ مِثْلَ مَا صَنَعَ الْأَشَجُّ : أَلْبَسْتُهُ ثَوْبَيْهِ فَأَتَيْتُهُ ، فَأَخَذَ طَائِفَةً مِنْ رِدَائِهِ فَرَفَعَهَا حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِظَهْرِهِ . قَالَ : " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ " . فَوَلَّى وَجْهَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ نَظَرَ رَجُلٍ صَحِيحٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ هِنْدُ بِنْتُ الْوَازِعِ وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا وازع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرے ساتھ اشج بن منذر بن عاصم تھے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) عامر بن منذر تھے ، ان کے ساتھ ایک ایسا فرد تھا ، جسے جنون لاحق تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، تو اپنی سواریوں سے اچھل کر اترے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دست بوسی کی ، پھر اشج نیچے اترے ، انہوں نے ان لوگوں کی سواریوں کو باندھا ، اپنا تھیلا نکالا ، اُسے کھولا ( اور لباس تبدیل کر کے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اشج ! تمہارے اندر دو خصوصیات پائی جاتی ہیں ، ان دونوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ۔ ” حلم “ ( یعنی بردباری ) اور ” اناۃ “ ( یعنی جلدبازی نہ کرنا ) انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میں نے ازخود اختیار کی ہیں ؟ یا اللہ تعالیٰ نے میری جبلت میں شامل کی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جبلت میں شامل کی ہیں ، تو انہوں نے عرض کی : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میری جبلت میں دو ایسی عادات ڈالی ہیں ، جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ، سیدنا وازع رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ ایک رشتہ دار ہے ، جس پر جن آیا ہوا ہے ، تو آپ اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کہاں ہے ؟ اسے میرے پاس لے کر آؤ ! راوی کہتے ہیں : میں نے اس آدمی کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا ، جو طرز عمل سیدنا اشج رضی اللہ عنہ نے اختیار کیا تھا ، میں نے اسے عمدہ لباس پہنایا ، پھر میں اسے لے کر آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر پکڑی اور اسے بلند کیا ، یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل کی سفیدی نظر آنے لگی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پشت پر ہاتھ مارا ، اور فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! نکل جاؤ ، تو وہ منہ پھیر کر چلا گیا اور پھر وہ شخص صحیح طور پر دیکھنے لگا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک خاتون ہند بنت وازع ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14148
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12460)»