مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ قُدُومِ وَفْدِ الْجِنِّ وَطَاعَتِهِمْ لَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: جنات کے وفد کا آنا اور ان کا نبی اکرم ﷺ کی فرمانبرداری کرنا
وَعَنْهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ فَلْيَقُمْ مَعِيَ رَجُلٌ ، وَلَا يَقُمْ رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ " . فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ فِيهَا نَبِيذٌ ، فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا بَرَزَ خَطَّ لِي خَطًّا وَقَالَ : " لَا تَخْرُجْ مِنْهُ ، فَإِنَّكَ إِنْ خَرَجْتَ مِنْهُ لَمْ تَرَنِي وَلَا أَرَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَانْطَلَقَ وَتَوَارَى عَنِّي حَتَّى لَمْ أَرَهُ ، فَلَمَّا سَطَعَ الْفَجْرُ أَقْبَلَ فَقَالَ لِي : " أَرَاكَ قَائِمًا ؟ " . فَقُلْتُ : مَا قَعَدْتُ ، فَقَالَ : " مَا عَلَيْكَ لَوْ فَعَلْتَ ؟ " . قُلْتُ : خَشِيتُ أَنْ أَخْرُجَ مِنْهُ . قَالَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ خَرَجْتَ مِنْهُ لَمْ تَرَنِي وَلَمْ أَرَكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، هَلْ مَعَكَ وَضُوءٌ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " مَا هَذِهِ الْإِدَاوَةُ " . قُلْتُ : فِيهَا نَبِيذٌ . قَالَ : " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ " . فَتَوَضَّأَ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ مِنَ الْجِنِّ فَسَأَلَاهُ الطَّعَامَ قَالَ : " أَلَمْ آمُرْ لَكُمَا وَلِقَوْمِكُمَا بِمَا يُصْلِحُكُمْ ؟ " . قَالَا : بَلَى ، وَلَكِنْ أَحْبَبْنَا أَنْ يَشْهَدَ بَعْضُنَا مَعَكَ الصَّلَاةَ . قَالَ : " فَمَنْ أَنْتُمَا ؟ " . قَالَا : نَحْنُ مِنْ أَهْلِ نَصِيبِينَ ، قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ هَذَانِ وَأَفْلَحَ قَوْمُهُمَا " . فَأَمَرَ لَهُمَا بِالرَّوْثِ وَالْعِظَامِ طَعَامًا وَلَحْمًا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ أَيْضًا وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے جنات بھائیوں کے سامنے تلاوت کروں ، تو میرے ساتھ کوئی شخص اُٹھ کر چلے اور کوئی ایسا شخص نہ اُٹھے ، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہو ، راوی کہتے ہیں : تو میں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ، میں نے ایک برتن لے لیا ، جس میں نبیذ موجود تھی ، میں روانہ ہوا ، جب ہم اس مقام پر پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ایک لکیر کھینچی اور مجھ سے فرمایا : تم اس سے باہر نہ جانا ، کیونکہ اگر تم اس سے باہر گئے ، تو قیامت کے دن تک نہ تم مجھے دیکھ سکو گے ، نہ میں تمہیں دیکھ سکوں گا ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، اور میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ، یہاں تک کہ میں آپ کو دیکھ نہیں سکتا تھا ، جب صبح صادق کا وقت ہوا ، تو آپ تشریف لائے ، آپ نے مجھ سے فرمایا : میں تمہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں ، میں نے عرض کی : میں بیٹھا ہی نہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر کیا حرج تھا کہ اگر تم ایسا کر لیتے ؟ میں نے عرض کی : مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں میں اس سے نکل نہ جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس سے نکل جاتے ، تو قیامت کے دن تک نہ تم نے مجھے دیکھنا تھا ، اور نہ میں نے تمہیں دیکھنا تھا ، کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس برتن میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اس میں نبیذ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کھجور پاکیزہ ہوتی ہے ، اور پانی پاک ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز ادا کی ، جب آپ نے نماز ادا کی تو جنات میں سے دو افراد آپ کے پاس آئے ، انہوں نے آپ سے کھانا مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے تم دونوں کے لئے اور تم دونوں کی قوم کے لئے اس چیز کا حکم نہیں دیا ہے ؟ جو تمہارے لئے موزوں ہو ، ان دونوں نے عرض کی : جی ہاں ! لیکن ہماری یہ خواہش تھی کہ ہم میں سے بعض لوگ آپ کی اقتداء میں نماز میں شریک ہوتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں کون ہو ؟ ان دونوں نے بتایا : ہم نصیبین سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دونوں کامیاب ہو گئے ، اور ان دونوں کی قوم کامیاب ہو گئی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے بارے میں مینگنی اور ہڈی کا حکم دیا کہ وہ کھانا اور گوشت بن جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید اور ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔