مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ قُدُومِ وَفْدِ الْجِنِّ وَطَاعَتِهِمْ لَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: جنات کے وفد کا آنا اور ان کا نبی اکرم ﷺ کی فرمانبرداری کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا قَالَ : اسْتَتْبَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْجِنِّ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغْنَا أَعْلَى مَكَّةَ فَخَطَّ لِي خَطًّا وَقَالَ : " لَا تَبْرَحْ " . ثُمَّ انْصَاعَ فِي أَجْبَالِ الْجِنِّ ، فَرَأَيْتُ الرِّجَالَ يَنْحَدِرُونَ عَلَيْهِ مِنْ رُءُوسِ الْجِبَالِ ، حَتَّى حَالُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَاخْتَرَطْتُ السَّيْفَ وَقُلْتُ : لَأَضْرِبَنَّ حَتَّى أَسْتَنْقِذَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ : " لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ " . قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا قَائِمٌ فَقَالَ : " مَا زِلْتَ عَلَى حَالِكَ ؟ " . قُلْتُ : لَوْ لَبِثْتَ شَهْرًا مَا بَرِحْتُ حَتَّى تَأْتِيَنِي ، ثُمَّ أَخْبَرْتُهُ بِمَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْنَعَ فَقَالَ : " لَوْ خَرَجْتَ مَا الْتَقَيْنَا أَنَا وَأَنْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ثُمَّ شَبَّكَ أَصَابِعَهُ فِي أَصَابِعِي ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي وُعِدْتُ أَنْ يُؤْمِنَ بِي الْإِنْسُ وَالْجِنُّ ، فَأَمَّا الْإِنْسُ فَقَدْ آمَنَتْ بِي وَأَمَّا الْجِنُّ فَقَدْ رَأَيْتَ " . قَالَ : " وَمَا أَظُنُّ أَجَلِي إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ أَبَا بَكْرٍ ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ لَمْ يُوَافِقْهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ عُمَرَ ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ لَمْ يُوَافِقْهُ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ عَلِيًّا ؟ قَالَ : " ذَاكَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ بَايَعْتُمُوهُ وَأَطَعْتُمُوهُ أَدْخَلَكُمُ الْجَنَّةَ أَكْتَعِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنات سے ملاقات کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ساتھ چلنے کے لئے کہا: ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہو گیا ، یہاں تک کہ ہم مکہ کے بالائی حصے میں پہنچ گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ایک لکیر لگا دی اور فرمایا : یہیں رہنا ، پھر آپ جنات کی طرف تشریف لے گئے ، میں نے کچھ افراد کو دیکھا کہ وہ پہاڑوں کے سروں سے اتر کر آپ کی طرف آ رہے ہیں ، یہاں تک کہ وہ لوگ میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حائل ہو گئے ، میں نے تلوار نکالی اور سوچا کہ میں اس کے ذریعے ضرور ضرب لگاؤں گا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا لوں گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مجھے یاد آ گیا کہ جب تک میں تمہارے پاس نہیں آتا ، تم نے یہیں رہنا ہے ، راوی کہتے ہیں : مسلسل اسی طرح کی صورت حال رہی ، یہاں تک کہ جب صبح صادق ہونے لگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، میں اس وقت کھڑا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : تم مسلسل اسی حالت میں رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : اگر ایک ماہ بھی گزر جاتا ، تو میں نے ایسے ہی رہنا تھا ، جب تک آپ میرے پاس تشریف نہیں لے آتے ، پھر میں نے آپ کو بتایا کہ جو میں نے کرنے کا ارادہ کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اس سے باہر نکل جاتے ، تو قیامت کے دن تک میری اور تمہاری ملاقات نہ ہو پاتی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں میری انگلیوں میں داخل کیں اور پھر فرمایا : میرے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ انسان اور جنات مجھ پر ایمان لائیں گے ، جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے ، تو وہ مجھ پر ایمان لا رہے ہیں ، اور جہاں تک جنات کا تعلق ہے ، تو وہ تم دیکھ رہے ہو ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ میرا وقت قریب آ چکا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر نہیں کرتے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، تو مجھے یہ لگا کہ شاید یہ موزوں نہیں ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر نہیں کرتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، مجھے اندازہ ہوا کہ یہ بھی آپ کے نزدیک موزوں نہیں ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر نہیں کرتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ ایسا فرد ہے کہ اگر تم اس کی بیعت کر لو گے ، اور اس کی اطاعت کرو گے ، تو وہ تم سب کو جنت میں داخل کروا دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔