مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ قُدُومِ وَفْدِ الْجِنِّ وَطَاعَتِهِمْ لَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: جنات کے وفد کا آنا اور ان کا نبی اکرم ﷺ کی فرمانبرداری کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ : " لِيَقُمْ مَعِيَ رَجُلٌ مِنْكُمْ ، وَلَا يُقُومَنَّ مَعِي رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْغِشِّ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ " . قَالَ : فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً ، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذْ كُنَّا بِأَعْلَى مَكَّةَ رَأَيْتُ أَسْوِدَةً مُجْتَمِعَةً قَالَ : فَخَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطًّا ثُمَّ قَالَ : " قُمْ هَهُنَا حَتَّى آتِيَكَ " . فَقُمْتُ وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَثُورُونَ إِلَيْهِ . قَالَ : فَسَمَرَ مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلًا طَوِيلًا ، حَتَّى جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " مَا زِلْتَ قَائِمًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ؟ " . قُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَلَمْ تَقُلْ لِي : قُمْ حَتَّى آتِيَكَ ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : " هَلْ مَعَكَ مِنْ وَضُوءٍ ؟ " . قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَفَتَحْتُ الْإِدَاوَةَ فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ . قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ . قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَمَرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ " . قَالَ : ثُمَّ تَوَضَّأَ مِنْهَا . فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي أَدْرَكَهُ شَخْصَانِ مِنْهُمْ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تَؤُمَّنَا فِي صَلَاتِنَا ، قَالَ : فَصَفَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى بِنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : " هَؤُلَاءِ جِنُّ نَصِيبِينَ ، جَاءُونِي يَخْتَصِمُونَ فِي أُمُورٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ ، وَقَدْ سَأَلُونِي الزَّادَ فَزَوَّدْتُهُمْ " . قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : وَهَلْ عِنْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْءٌ تُزَوِّدُهُمْ إِيَّاهُ ؟ قَالَ : " قَدْ زَوَّدْتُهُمُ الرَّجْعَةَ وَمَا وَجَدُوا مِنْ رَوْثٍ وَجَدُوهُ شَعِيرًا ، وَمَا وَجَدُوا مِنْ عَظْمٍ وَجَدُوهُ كَاسِيًا " . قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَنْ يُسْتَطَابَ بِالْعَظْمِ وَالرَّوْثِ . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . وَرَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں موجود تھے ، آپ اپنے چند اصحاب کے درمیان موجود تھے ، اسی دوران آپ نے فرمایا : تم میں کوئی ایک شخص اٹھ کر میرے ساتھ چلے اور میرے ساتھ کوئی ایسا شخص ہرگز نہ جائے ، جس کے دل میں ذرے کے وزن جتنی کھوٹ ہو ، راوی کہتے ہیں : تو میں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ، میں نے ایک برتن لے لیا ، میرا یہ خیال تھا کہ اس میں پانی موجود ہو گا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا ، یہاں تک کہ ہم مکہ کے بالائی علاقے میں پہنچے ، تو میں نے وہاں کچھ وجود دیکھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ایک لکیر لگائی اور پھر فرمایا : تم نے یہاں ٹھہرنا ہے جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، تو میں کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر خاصی دیر تک ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے ابن مسعود ! تم اس وقت سے کھڑے ہوئے ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! کیا آپ نے مجھ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، تم کھڑے رہو ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں جب میں نے برتن کو کھولا تو اس میں نبیذ موجود تھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں نے تو یہ برتن اس لئے لیا تھا کہ میرا خیال تھا کہ اس میں پانی ہو گا ، لیکن اس میں تو نبیذ موجود ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کھجور پاکیزہ چیز ہے ، اور پانی پاک کرنے والا ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کر لیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے ، تو ان میں سے دو افراد آپ کے پاس آئے ، ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری یہ خواہش ہے کہ آپ نماز میں ہماری امامت کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے پیچھے کھڑا کر لیا ، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کون تھے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ نصیبین سے تعلق رکھنے والے جنات تھے جو میرے پاس آئے تھے ، یہ مختلف امور کے بارے میں مقدمہ لے کے آئے تھے ، جو ان کے درمیان چل رہا تھا ، انہوں نے مجھ سے زاد راہ کے بارے میں دریافت کیا ، تو ( یا انہوں نے مجھ سے زاد راہ مانگا ، تو وہ ) میں نے انہیں دے دیا ، راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے ؟ جو آپ نے انہیں زاد راہ کے طور پر دی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے انہیں زاد راہ میں ہڈی دی ہے ، اور جو مینگنی انہیں ملے گی ، وہ دی ہے کہ انہیں وہ جو کی شکل میں ہو گی ، اور جو ہڈی ملے گی ، وہ ہڈی گوشت والی ملے گی ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انسانوں کو ) اس موقع پر یہ منع کر دیا کہ ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجاء کیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید ہے ، جو عمرو بن حریث کا آزاد کردہ غلام ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔