مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ بَرَكَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي اللَّبَنِ وَآيَتِهِ فِيهِ . باب: دودھ میں ، نبی اکرم ﷺ کی برکت اور اس بارے میں آپ ﷺ کی نشانی ( یا معجزے ) کا بیان
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ السَّكُونِيِّ قَالَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مُسْتَخْفِيًا مِنْ قُرَيْشٍ ، فَمَرَّا بِرَاعٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ مِنْ شَاةٍ ضَرَبَهَا الْفَحْلُ ؟ " . قَالَ : لَا وَلَكِنَّ هَا هُنَا شَاةً قَدْ خَلَّفَهَا الْجُهْدُ ، فَقَالَ : " ائْتِنِي بِهَا " . فَأَتَاهُ بِهَا فَمَسَحَ ضَرْعَهَا وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ، فَحَلَبَ فَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ حَلَبَ فَسَقَى الرَّاعِيَ ، ثُمَّ حَلَبَ فَشَرِبَ ، فَقَالَ لَهُ : بِاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَكَ ، مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : " إِنْ أَخْبَرْتُكَ تَكْتُمُ عَلَيَّ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ : الَّذِي تَزْعُمُ قُرَيْشٌ أَنَّهُ صَابِئٌ ؟ قَالَ : " إِنَّهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ " . قَالَ : فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى مَا فَعَلْتَ إِلَّا رَسُولٌ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : أَتْبَعُكَ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا الْيَوْمَ فَلَا ، وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ أَنَّا قَدْ ظَهَرْنَا فَائْتِنَا " . فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ مَا ظَهَرَ بِالْمَدِينَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا قیس بن نعمان سکونی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، یہ لوگ قریش سے چھپتے ہوئے جا رہے تھے ، ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا کوئی ایسی بکری ہے ؟ جس کے ساتھ نر جانور نے جفتی کی ہو ، اس نے جواب دیا : جی نہیں ! یہاں پر ایک ایسی بکری ہے ، جو کمزوری کی وجہ سے چل نہیں پا رہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسی کو میرے پاس لے آؤ ! وہ اس بکری کو آپ کے پاس لے کے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے وہ دودھ دوہ لیا ، آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو وہ دودھ پلایا ، پھر آپ نے دودھ دوہ لیا اور چرواہے کو پلایا ، پھر آپ نے دودھ دوہ لیا اور خود پیا ، اس چرواہے نے آپ سے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے آپ جیسا فرد نہیں دیکھا ، آپ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں تمہیں بتا دوں ، تو کیا تم اس بات کو چھپا کے رکھو گے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو اللہ کا رسول ہے ، اس نے کہا: آپ وہی صاحب ہیں ، جن کے بارے میں قریش یہ کہتے ہیں کہ وہ بے دین ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ یہی کہتے ہیں ، اس نے کہا: پھر میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، کیونکہ جو کام آپ نے کیا ہے ، وہ کوئی رسول ہی کر سکتا ہے ، پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا میں آپ کے ساتھ آؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی نہیں ، جب تم یہ سنو کہ ہمیں غلبہ حاصل ہو گیا ہے ، تو تم ہمارے پاس آ جانا ۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ میں غلبہ حاصل کرنے کے بعد وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔