مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ . باب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ مجھے دستہ پکڑاؤ ! “
وَعَنْ سَلْمَى امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ بِشَاةٍ - وَذَلِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِيمَا أَعْلَمُ - فَصَلَاهَا أَبُو رَافِعٍ وَجَعَلَهَا فِي مِكْتَلٍ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهَا فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاجِعًا مِنَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ ؟ فَقَالَ : " لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مَا سَأَلْتُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو ایک بکری بھجوائی ، میرے خیال میں یہ غزوہ خندق کے موقع کی بات ہے ، سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے اسے پکایا ، پھر اسے ایک برتن میں رکھا ، پھر اسے لے کر روانہ ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہو گئی ، آپ خندق سے واپس تشریف لا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ! میں نے آپ کو پکڑائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے دسی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑائی ، میں نے آپ کو پکڑائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے دستی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے دستی پکڑاؤ ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بکری میں صرف دو دستیاں ہوتی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم خاموش رہتے ، تو جب تک میں تم سے منگواتا رہتا ، تم مجھے یہ پکڑاتے رہتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔