حدیث نمبر: 14131
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ لَهُ ضَيْفًا ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنِصْفِ وَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ فَأَكَلُوا مِنْهُ حِينًا ، ثُمَّ أَخَذَهُ يَوْمًا فَكَالَهُ لِيَنْظُرَ كَمْ بَقِيَ ؟ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ فَنِيَ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " كِلْتُمُوهُ ؟ أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَبَقِيَ كَذَا وَكَذَا " . أَوْ قَالَ : " عُمْرَكُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مہمان کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جو کا نصف وسق دینے کا حکم دیا ، ان لوگوں نے اس میں سے کھانا شروع کیا ، وہ ایک عرصے تک اس کو کھاتے رہے ، پھر ایک دن انہوں نے اسے لیا اور اسے ماپا ، تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ کتنا باقی بچا ہے ؟ تو تھوڑے ہی عرصے بعد وہ ختم ہو گیا ، تو وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اسے ماپ لیا تھا ؟ اگر تم اسے نہ ماپتے ، تو وہ اتنے اتنے عرصے تک باقی رہنا تھا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہاری زندگی بھر باقی رہنا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2420)»