مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مُعْجِزَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الطَّعَامِ وَبَرَكَتِهِ فِيهِ . باب: کھانے کے بارے میں ، نبی اکرم ﷺ کا معجزہ ، اور اس میں آپ کی برکت کا بیان
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ طَعَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدُورُ عَلَى يَدَيْ أَصْحَابِهِ هَذَا لَيْلَةً وَهَذَا لَيْلَةً . قَالَ : فَدَارَ عَلَيَّ لَيْلَةً فَصَنَعْتُ طَعَامَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكْتُ النِّحْيَ ، وَلَمْ أُوكِهِ ، وَذَهَبْتُ بِالطَّعَامِ إِلَيْهِ ، فَتَحَرَّكَ فَأُهْرِيقَ مَا فِيهِ ، فَقُلْتُ : أَعَلَى يَدَيَّ أُهْرِيقَ طَعَامُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْنُهُ " . فَقُلْتُ : لَا أَسْتَطِيعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَجَعْتُ مَكَانِي فَإِذَا النِّحْيُ يَقُولُ : قَبْ قَبْ فَقُلْتُ : مَهْ قَدْ أُهْرِيقَ فَضْلَةٌ فَضَلَتْ فِيهِ ، فَجِئْتُ أَنْظُرُهُ ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ مُلِئَ إِلَى ثَدْيَيْهِ ، فَأَخَذْتُهُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " إِنَّكَ لَوْ تَرَكْتَهُ لَمُلِئَ إِلَى فِيهِ ثُمَّ أُوكِيَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَفِيهَا : " لَوْ تَرَكْتَهُ لَسَالَ وَادِيًا سَمْنًا " . وَرِجَالُ الطَّرِيقِ الَّتِي هُنَا وُثِّقُوا . ¤سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا کھانا آپ کے اصحاب کے ہاتھوں میں گھومتا تھا ، ایک رات ایک کی ذمہ داری ہوتی تھی ، ایک رات ایک کی ذمہ داری ہوتی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : ایک رات میرے ذمہ باری تھی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا تیار کیا ، میں نے گھی کے برتن کو ایسے ہی چھوڑ دیا ، اس کا منہ بند نہیں کیا ، میں کھانا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا ، پیچھے سے برتن میں حرکت ہوئی اور اس میں جو گھی موجود تھا ، وہ بہہ گیا ، میں نے کہا: کیا میرے ہاتھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کا گھی بہہ گیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے لے کر آؤ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا ، جب میں اپنی جگہ واپس آیا تو وہاں گھی کا برتن موجود تھا ، جو کہہ رہا تھا : قب قب ، تو میں نے کہا: ٹھہر جاؤ ، جو اضافی تھا وہ بہہ گیا ہے ، اور پھر بھی اس میں بچ گیا ہے ، پھر میں نے اس کا جائزہ لیا تو میں نے اس کو پایا کہ وہ سینے تک بھرا ہوا تھا ، میں نے اسے لیا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتے تو اس نے منہ تک بھر جانا تھا اور پھر اس کا منہ بند ہو جانا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کا ایک طریق غزوہ تبوک سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، اور اس میں ایک بات مذکور ہے کہ اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتے تو نشیبی حصے میں گھی بہہ رہا ہوتا ۔ اس طریق کے رجال ، جو یہاں ہیں ، ان کی توثیق کی گئی ہے ۔