حدیث نمبر: 14128
وَعَنْ أُمِّ أَوْسٍ الْبَهْزِيَّةِ أَنَّهَا مَلَأَتْ سَمْنًا لَهَا فَجَعَلَتْهُ فِي عُكَّةٍ ، ثُمَّ أَهْدَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبِلَهُ وَأَخَذَ مَا فِيهَا ، وَدَعَا لَهَا بِالْبَرَكَةِ فَرَدُّوهَا إِلَيْهَا وَهِيَ مَمْلُوءَةٌ سَمْنًا ، فَظَنَّتْ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَقْبَلْهَا ، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَهَا صُرَاخٌ فَقَالَ : " أَخْبِرُوهَا بِالْقِصَّةِ " . فَأَكَلَتْ مِنْهُ بَقِيَّةَ عُمْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ وَوِلَايَةِ عُمَرَ وَوِلَايَةِ عُثْمَانَ حَتَّى كَانَ بَيْنَ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ مَا كَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیده ام اوس بہزیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے گھی اکٹھا کیا اور اسے ایک برتن میں ڈالا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کیا اور اس میں جو کچھ موجود تھا اسے لے لیا ، پھر آپ نے اس خاتون کے لئے برکت کی دعا کی اور وہ برتن اس خاتون کو واپس کیا ، تو وہ گھی سے بھرا ہوا تھا ، وہ خاتون یہ سمجھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید اسے قبول نہیں کیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، وہ رو رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ساری صورت حال بتاؤ ، تو اس خاتون نے اس گھی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی زندگی میں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پورے عہد خلافت میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں کھایا ، یہاں تک کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان لڑائی ہوئی ، تو وہ اس وقت تک بھی بچا رہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن سلیمان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14128
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (151/25)»