حدیث نمبر: 14127
وَعَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا جَاءَتْ بِعُكَّةِ سَمْنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَعَصَرَهَا ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيْهَا فَرَجَعَتْ فَإِذَا هِيَ مُمْتَلِئَةٌ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : " وَمَا ذَلِكَ يَا أُمَّ مَالِكٍ ؟ " . فَقَالَتْ : لِمَ رَدَدْتَ هَدِيَّتِي ؟ فَدَعَا بِلَالًا فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ عَصَرْتُهَا حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَنِيئًا لَكِ يَا أُمِّ مَالِكٍ ، عَجَّلَ اللَّهُ ثَوَابَهَا " . ثُمَّ عَلَّمَهَا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَشْرًا ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام مالک انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ گھی کا برتن لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے اسے نچوڑ لیا ، پھر انہوں نے وہ برتن اس خاتون کو واپس کیا ، جب وہ خاتون واپس گئیں تو وہ برتن بھرا ہوا تھا ، پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئیں اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہو گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا ؟ اے اُم مالک ! انہوں نے عرض کی : آپ نے میرا تحفہ واپس کیوں کر دیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے اسے اتنا نچوڑا تھا کہ مجھے شرم آنے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام مالک ! تمہیں مبارک باد ہو ! یہ برکت ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ نے جلدی ثواب کے طور پر دیا ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ تعلیم دی کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14127
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (145/25)»