حدیث نمبر: 14126
وَعَنْ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ : كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَجَمَعْتُ مِنْ سَمْنِهَا فِي عُكَّةٍ فَمَلَأْتُ الْعُكَّةَ ، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا مَعَ رَبِيبَةٍ فَقُلْتُ : يَا رَبِيبَةُ ، أَبْلِغِي هَذِهِ الْعُكَّةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتَدِمُ بِهَا . فَانْطَلَقَتْ رَبِيبَةُ حَتَّى أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عُكَّةُ سَمْنٍ بَعَثَتْ بِهَا إِلَيْكَ أُمُّ سُلَيْمٍ . فَقَالَ : " فَرِّغُوا لَهَا عُكَّتَهَا " . فَفُرِّغَتِ الْعُكَّةُ ، فَدُفِعَتْ إِلَيْهَا ، فَانْطَلَقْتُ ، فَجَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَرَأَتِ الْعُكَّةَ مُمْتَلِئَةً تَقْطُرُ ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَبِيبَةُ ، أَلَيْسَ قَدْ أَمَرْتُكِ أَنْ تَنْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَتْ : قَدْ فَعَلْتُ فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقِينِي فَانْطَلِقِي فَسَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا رَبِيبَةُ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي بَعَثْتُ إِلَيْكَ مَعَهَا بِعُكَّةٍ فِيهَا سَمْنٌ . فَقَالَ : " قَدْ فَعَلَتْ ، قَدْ جَاءَتْ بِهَا " . فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ إِنَّهَا لَمُمْتَلِئَةٌ تَقْطُرُ سَمْنًا . قَالَ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَعْجَبِينَ إِنْ كَانَ اللَّهُ أَطْعَمَكِ كَمَا أَطْعَمْتِ نَبِيَّهُ ؟ كُلِي وَأَطْعِمِي " . قَالَتْ : فَجِئْتُ الْبَيْتَ فَقَسَّمْتُ فِي قَعْبٍ لَنَا كَذَا وَكَذَا ، وَتَرَكْتُ فِيهَا مَا ائْتَدَمْنَا بِهِ شَهْرًا أَوْ شَهْرَيْنِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : زَيْنَبُ بَدَلَ رَبِيبَةَ . وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ التَّرْجَمِيُّ وَهُوَ الْيَشْكُرِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام انس بن مالک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہماری ایک بکری تھی ، میں نے اس کے گھی کو کپی میں اکٹھا کیا اور اسے بھر دیا ، پھر میں نے ربیبہ کے ہاتھ وہ بھجوایا ، میں نے کہا: اے ربیبہ اس برتن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دو تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھی کو سالن کے طور پر استعمال کریں ، ربیبہ گئی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گھی کا برتن ہے جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کو بھجوایا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا برتن اسے خالی کر کے دے دو ، وہ برتن خالی کر دیا گیا اور مجھے دیا گیا ، میں روانہ ہوئی ، جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے برتن کو دیکھا کہ وہ بھرا ہوا ہے ، اور اس میں سے قطرے ٹپک رہے ہیں ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ربیبہ ! کیا میں نے تمہیں یہ ہدایت نہیں کی تھی کہ تم اسے اللہ کے رسول کے پاس لے جاؤ ، تو ربیبہ نے کہا: میں نے ایسا کیا تھا ، اگر آپ مجھے سچا نہیں سمجھتی ہیں تو آپ خود جائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیں ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا گئیں ، ان کے ساتھ ربیبہ بھی تھیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس لڑکی کے ہمراہ آپ کی طرف گھی کا برتن بھیجا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے ایسا کر دیا تھا ، وہ اس کو لے آئی تھی ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو ہدایت اور دین حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، وہ برتن تو بھرا ہوا ہے ، اور اس میں سے گھی کے قطرے ٹپک رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا تم اس بات پر حیران ہو رہی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمہیں کھانے کے لئے دیا ہے ، جس طرح تم نے اس کے نبی کو کھانا دیا تھا ، تم اس میں سے کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں گھر واپس آئی ، میں نے اسے اپنے اتنے اتنے برتنوں میں تقسیم کیا اور پھر بھی اس برتن میں اتنا باقی بچ گیا کہ ہم ایک ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) دو ماہ تک اسے سالن کے طور پر استعمال کرتے رہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم ربیبہ کی جگہ خاتون کا نام زینب نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن برجمی ہے ، اور وہ یشکری ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14126
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4213) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (120/25)»