مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مُعْجِزَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الطَّعَامِ وَبَرَكَتِهِ فِيهِ . باب: کھانے کے بارے میں ، نبی اکرم ﷺ کا معجزہ ، اور اس میں آپ کی برکت کا بیان
وَعَنْ صَفِيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ فَقَالَ : " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ يَا بِنْتَ حُيَيٍّ فَإِنِّي جَائِعٌ ؟ " . فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا مُدَّيْنِ مِنْ طَحِينٍ . قَالَ : " فَاسْخِتِيهِ " . قَالَتْ : فَجَعَلْتُهُ فِي الْقِدْرِ وَأَنْضَجْتُهُ فَقُلْتُ : قَدْ نَضِجَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَتَعْلَمِينَ فِي نِحْيِ بِنْتِأَبِي بَكْرٍ شَيْئًا ؟ " . فَقُلْتُ : مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَذَهَبَ هُوَ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى بَيْتَهَا فَقَالَ : " فِي نِحْيِكِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ شَيْءٌ ؟ " . فَقَالَتْ : لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ إِلَّا قَلِيلٌ ، فَجَاءَ بِهِ هُوَ بِنَفْسِهِ ، فَعَصَرَ حَافَّتَيْهِ فِي الْقِدْرِ ، حَتَّى رَأَيْتُ الَّذِي يَخْرُجُ فَوَضَعَ يَدَهُ فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ادْعِي أَخَوَاتِكِ ; فَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُنَّ يَجِدْنَ مِثْلَ مَا أَجِدُ " . فَدَعَوْتُهُنَّ فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا ، ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَدَخَلَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ . قَالَتْ : فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ عَنْهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے حیی کی صاحبزادی ! کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے ( جسے کھایا جا سکے ) کیونکہ مجھے بھوک لگی ہے ، میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! نہیں ہے یا رسول اللہ ! صرف آٹے کے دو مد ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ہی تیار کرو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، میں نے اسے ہنڈیا میں ڈالا اور اسے پکانے لگی میں نے کہا: یا رسول اللہ یہ پک گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ بات جانتی ہو کہ ابوبکر کی بیٹی کے برتن میں کوئی چیز ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے نہیں معلوم پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود تشریف لے گئے یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ، آپ نے فرمایا : اے ابوبکر کی بیٹی ! کیا تمہارے برتن میں کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس میں کچھ نہیں ہے ، صرف معمولی سا کچھ گھی ہو گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود اسے لے کے آئے ، آپ نے اس کے دو کناروں کو ہنڈیا میں نچوڑا ، یہاں تک کہ میں نے اس چیز کو دیکھا ، جو نکل رہی تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا : اللہ کا نام لے کر اپنی بہنوں کو بلا کے لاؤ ، کیونکہ مجھے یہ پتہ ہے کہ انہیں بھی وہی صورت حال محسوس ہو رہی ہو گی جو مجھے محسوس ہو رہی ہے ، تو میں دیگر ازواج مطہرات کو لے کے آئی ، ہم نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئیں ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ اندر آئے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ اندر آئے ، پھر ایک اور صاحب آئے ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو ان سب لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سب لوگ سیر ہو گئے اور پھر بھی کھانا بچ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔