حدیث نمبر: 14124
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَخْطَأَنِي الْعَشَاءُ ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْطَأَنِي أَنْ يَدْعُوَنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِنَا ، فَصَلَّيْتُ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَنَامَ فَلَمْ أَقْدِرْ ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ فَلَمْ أَقْدِرْ ، فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ، فَصَلَّى ثُمَّ اسْتَنَدَ إِلَى السَّارِيَةِ الَّتِي كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ أَبُو هُرَيْرَةَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " أَخَطَأَكَ الْعَشَاءُ مَعَنَا اللَّيْلَةَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى الْمَنْزِلِ فَقُلْ : هَلُمُّوا الطَّعَامَ الَّذِي عِنْدَكُمْ " . فَأَعْطَوْنِي صَحْفَةً فِيهَا عَصِيدَةٌ بِتَمْرٍ ، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " ادْعُ أَهْلَ الْمَسْجِدِ " . فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : الْوَيْلُ لِي مِمَّا أَرَى مِنْ قِلَّةِ الطَّعَامِ ، وَالْوَيْلُ لِي مِنَ الْمَعْصِيَةِ ، فَآتِي الرَّجُلَ وَهُوَ نَائِمٌ فَأُوقِظُهُ وَأَقُولُ : أَجِبْ ، وَآتِي الرَّجُلَ وَهُوَ يُصَلِّي فَأَقُولُ : أَجِبْ حَتَّى اجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهَا وَغَمَزَ نَوَاحِيَهَا وَقَالَ : " كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ " . فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَأَكَلْتُ حَتَّى شَبِعْتُ ، قَالَ : " خُذْهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَارْدُدْهَا إِلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، فَمَا فِي آلِ مُحَمَّدٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ غَيْرُ هَذِهِ ، أَهْدَاهَا إِلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ " . فَأَخَذْتُ الصَّحْفَةَ فَرَفَعْتُهَا ، فَإِذَا هِيَ كَهَيْئَتِهَا حِينَ وَضَعْتُهَا إِلَّا أَنَّ فِيهَا آثَارَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں عشاء کی نماز ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا نہیں کر سکا ، اور یہ بھی نہیں ہو سکا کہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی مجھے بلا لیتا ، میں نے عشاء کی نماز ادا کی ، پھر میں نے سونے کا ارادہ کیا ، تو میں سو نہیں پایا ، پھر میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں نفل پڑھتا ہوں ، لیکن میں یہ بھی نہیں کر سکا ، وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس مجھے کوئی شخص نظر آیا ، میں اس کے پاس آیا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جو نماز ادا کر رہے تھے ، آپ نماز ادا کر رہے تھے ، پھر آپ نے اس ستون کے ساتھ ٹیک لگا لی ، جس کی طرف رخ کر کے آپ نماز ادا کرتے تھے ، آپ نے فرمایا : کون ہے ؟ کیا ابوہریرہ ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آج تم نے عشاء کی نماز ہمارے ساتھ ادا نہیں کی ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم گھر جاؤ اور یہ کہو : تم لوگوں کے پاس جو کھانا ہے ، وہ دے دو ، تو ان لوگوں نے مجھے ایک پیالہ دیا ، جس میں کھجور کا عصیدہ تھا ، میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسجد میں موجود افراد کو بلا کر لاؤ ، میں نے دل میں سوچا کہ میرے لئے بربادی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کھانا کم تھا اور میرے لئے اس حوالے سے بھی بربادی ہے اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کروں ، تو میں ایک شخص کے پاس آیا وہ سویا ہوا تھا ، میں نے اسے بیدار کیا ، میں نے اسے کہا: تم بلانے پر جاؤ ، پھر ایک اور شخص کے پاس آیا ، وہ نماز پڑھ رہا تھا ، میں نے کہا: تم بلانے پر جاؤ ، یہاں تک کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس کھانے میں رکھیں اور اس کے اطراف کو ہلایا جلایا ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ، ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، میں نے بھی کھانا کھایا ، یہاں تک کہ میں بھی سیر ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم اسے لو اور اسے آل محمد کے پاس واپس چھوڑ آؤ ! کیونکہ آل محمد کے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسا کھانا نہیں ہے ، جسے کوئی جاندار کھا سکے ، یہ کھانا بھی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے ہمیں تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو میں نے وہ پیالہ لیا ، اسے اٹھایا تو یہ اسی طرح تھا ، جیسے اس وقت تھا جب میں نے اسے رکھا تھا ، البتہ اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نشان موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح