مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مُعْجِزَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الطَّعَامِ وَبَرَكَتِهِ فِيهِ . باب: کھانے کے بارے میں ، نبی اکرم ﷺ کا معجزہ ، اور اس میں آپ کی برکت کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَتَى أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبُو طَلْحَةَ رَابُّهُ فَقَالَ : عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ شَيْءٌ ؟ فَإِنِّي مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُقْرِئُ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ سُورَةَ النِّسَاءِ ، وَقَدْ رَبَطَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنَ الْجُوعِ ! فَقَالَتْ : عِنْدِي شَيْءٌ مِنْ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : فَانْطَلَقُوا يَوْمَئِذٍ وَهُمْ ثَمَانُونَ رَجُلًا ، فَأَمْسَكَ بِيَدِي ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الدَّارِ نَزَعْتُ يَدِي مِنْ يَدِهِ ، فَجَعَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَطْلُبُنِي فِي الدَّارِ وَيَرْمِينِي بِالْحِجَارَةِ وَيَقُولُ : فَضَحْتَنِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ إِنَّهُ خَرَجَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَأَمَرَهُمْ فَجَلَسُوا ثُمَّ دَخَلَ ، فَأَتَيْنَاهُ بِالْقُرْصِ فَقَالَ : " هَلْ مِنْ أُدْمٍ ؟ " . فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ كَانَ عِنْدَنَا نِحْيٌ قَدْ عَصَرْتُهُ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلُمُّوا فَإِنَّ عَصْرَ الثَّلَاثَةِ أَبْلَغُ مِنْ عَصْرِ الِاثْنَيْنِ " . فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَصَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُمَا بِيَدِهِ ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ : " ادْعُوَا لِي عَشَرَةً " . فَأَكَلُوا حَتَّى تَجَشَّئُوا شِبَعًا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے سوتیلے والد تھے ، انہوں نے کہا: اے ام سلیم ! کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تھا ، آپ اصحاب صفہ کو سورت نساء کی تعلیم دے رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : میرے پاس تھوڑے سے جو ہیں ، میں انہیں پیس لیتی ہوں ، راوی کہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : تو وہ لوگ اس وقت روانہ ہوئے ، ان کی تعداد اسّی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، جب میں گھر کے قریب ہوا ، تو میں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھڑایا ، گھر میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میرے پیچھے آنے لگے ، وہ مجھے پتھر مار رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : تم اللہ کے رسول کے سامنے مجھے شرمندہ کروا دو گے ، پھر وہ نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گئے اور آپ کو صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بیٹھ جائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے ، ہم روٹی کے ٹکڑے آپ کے پاس لے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا سالن ہے ؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ہمارے پاس ایک برتن ہے ، جس میں سے میں اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نچوڑ چکے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہی لے کر آؤ ! اگر تین افراد نچوڑ لیں ، تو وہ دو کے نچوڑنے کے مقابلے میں زیادہ بلیغ ہوتا ہے ، وہ ان کے پاس اس برتن کو لے کر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے نچوڑا ، اور پھر اس میں برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے فرمایا : دس افراد کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! تو ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو کر ڈکار لینے لگے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو صیح میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔