حدیث نمبر: 14120
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ عَلَى حَجَرٍ ، فَقُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ : لِمَ عَصَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَطْنَهُ ؟ فَقَالَ : مِنَ الْجُوعِ . فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ - وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ - فَقُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ ، فَسَأَلَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " مِنَ الْجُوعِ " . فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي فَقَالَ : هَلْ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمْرَاتٍ ، فَإِنْ جَاءَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْبَعْنَاهُ ، وَإِنْ جَاءَ مَعَهُ أَحَدٌ قَلَّ عَنْهُمْ . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : اذْهَبْ يَا أَنَسُ فَقُمْ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا قَامَ فَدَعْهُ حَتَّى يَتَفَرَّقَ وَمَنْ تَبِعَهُ ، حَتَّى إِذَا قَامَ عَلَى عَتَبَةِ بَابِهِ فَقُلْ : أَبِي يَدْعُوكَ ، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ ، فَلَمَّا قُلْتُ : أَبِي يَدْعُوكَ ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " يَا هَؤُلَاءِ تَعَالَوْا " . ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَشَدَّهَا ، وَأَقْبَلَ بِأَصْحَابِهِ حَتَّى دَنَوْا مِنْ بَيْتِنَا ، أَرْسَلَ يَدِي ، فَدَخَلْتُ وَأَنَا حَزِينٌ لِكَثْرَةِ مَنْ جَاءَ مَعَهُ فَقُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، قَدْ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي قُلْتُ لِي فَدَعَا أَصْحَابَهُ فَقَدْ جَاءَكَ بِهِمْ . فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَرْسَلْتُ أَنَسًا يَدْعُوكَ وَحْدَكَ وَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي مَا يُشْبِعُ مَنْ أَرَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْخُلْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُشْبِعُهُمْ بِمَا عِنْدَكَ " . فَدَخَلَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اجْمَعُوا مَا عِنْدَكُمْ ثُمَّ قَرِّبُوهُ " . وَجَلَسَ مَنْ كَانَ مَعَهُ بِالسُّدَّةِ ، وَقَرَّبْتُ مَا كَانَ عِنْدَنَا مِنْ خُبْزٍ وَتَمْرٍ فَجَعَلْنَاهُ عَلَى حَصِيرِنَا ، فَدَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ : " أَدْخِلْ عَلَيَّ ثَمَانِيَةً " . فَأَدْخَلْتُ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةً ، وَجَعَلَ كَفَّهُ فَوْقَ الطَّعَامِ فَقَالَ : " كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ " . فَأَكَلُوا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَدْخَلْتُ ثَمَانِيَةً ، فَمَا زَالَ ذَلِكَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا ، كُلُّهُمْ يَأْكُلُ حَتَّى يَشْبَعَ ، ثُمَّ دَعَانِي وَدَعَا أُمِّي وَأَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ : " كُلُوا " . فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَيْنَ هَذَا مِنْ طَعَامِكِ حِينَ قَدَّمْتِيهِ ؟ " . قَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُهُمْ يَأْكُلُونَ لَقُلْتُ : مَا نَقَصَ مِنْ طَعَامِنَا شَيْءٌ . قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے پایا ، آپ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، آپ نے اپنے پیٹ پر پتھر رکھ کر پٹی باندھی ہوئی تھی ، میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی سے دریافت کیا ، آپ نے اپنے پیٹ پر پٹی کیوں باندھی ہوئی ہے ، اس نے جواب دیا : بھوک کی وجہ سے ، میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، وہ سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے ، میں نے کہا: اے ابا جان ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی ہے ، میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا کہ یہ بھوک کی وجہ سے ہے ، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میری والدہ کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : کیا کوئی چیز ہے ، تو اس خاتون نے کہا: میرے پاس روٹی کے کچھ ٹکڑے ہیں اور کچھ کھجوریں ہیں ، اب اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لے آتے ہیں ، تو ہم آپ کو کھانا کھلا سکیں گے ، لیکن اگر کوئی آپ کے ساتھ آ گیا ، تو پھر کھانا کم ہو جائے گا ، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے انس ! تم جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑے ہو جانا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں گے تو تم اتنا انتظار کرنا کہ لوگ ادھر ادھر ہو جائیں اور جو شخص آپ کے پیچھے آتا ہے وہ بھی ادھر ادھر ہو جائے ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہوں گے تو تم یہ کہنا کہ میرے والد نے آپ کو بلایا ہے ، راوی کہتے ہیں ، تو میں نے ایسا ہی کیا ، جب میں نے یہ عرض کی کہ میرے والد نے آپ کو بلایا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اے لوگو ! تم بھی آ جاؤ ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر اسے مضبوطی سے پکڑ لیا ، آپ اپنے اصحاب کے ساتھ آئے ، یہاں تک کہ جب آپ ہمارے گھر کے قریب پہنچے تو آپ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ، میں پریشانی کے عالم میں گھر میں داخل ہوا ، پریشانی اس وجہ سے تھی کہ آپ کے ساتھ آنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی ، میں نے کہا: اے ابا جان ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی بات کی تھی ، جو آپ نے مجھ سے کہی تھی ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بھی دعوت دے دی اور وہ ان لوگوں کے ساتھ آپ کے پاس آ رہے ہیں ، سیدنا ابوطلحہ نکل کر آپ کی طرف گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے انس کو صرف آپ کے لئے دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا ، میرے پاس اتنا کھانا نہیں ہے کہ جس کے ذریعے یہ لوگ سیر ہو سکیں ، جنہیں میں دیکھ رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اندر چلو ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس چیز کے ذریعے سیراب کر دے گا ، جو تمہارے پاس ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ اندر آئے ، آپ نے فرمایا : تمہارے پاس جو کچھ ہے اس کو اکٹھا کرو اور پھر اسے پیش کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آنے والے افراد باہر بیٹھ گئے ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہمارے ہاں جو کچھ موجود تھا ، روٹیاں تھیں اور کھجوریں تھیں ، وہ میں نے پیش کیں ، وہ ہم نے اپنی چٹائی پر رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے فرمایا : آٹھ افراد کو میرے پاس اندر لے کے آؤ ، میں آٹھ افراد کو اندر لے کے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی کھانے کے اوپر رکھ لی ، آپ نے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کے کھانا شروع کرو ، تو ان لوگوں نے کھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ، میں مزید آٹھ افراد کو لے آیا ، ایسا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ اسّی افراد اندر آ گئے ، ان سب نے کھانا کھا لیا ، یہاں تک کہ وہ سب سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ، میری والدہ کو بلایا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا ، آپ نے فرمایا : تم لوگ بھی کھاؤ ، ہم نے بھی کھانا کھایا ، یہاں تک کہ ہم بھی سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور فرمایا : اے ام سلیم ! جب تم نے کھانا پیش کیا تھا ، اب اس کے مقابلے میں تمہارے کھانے میں کیا فرق آیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اگر میں نے ان لوگوں کو کھاتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا ، تو میں نے یہی کہنا تھا کہ ہمارے کھانے میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14120
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (109/25)»