مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مُعْجِزَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الطَّعَامِ وَبَرَكَتِهِ فِيهِ . باب: کھانے کے بارے میں ، نبی اکرم ﷺ کا معجزہ ، اور اس میں آپ کی برکت کا بیان
وَعَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُمِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ : " قُمْ فَأَعْطِهِمْ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَا يَقِيظُنِي وَالصِّبْيَةَ - قَالَ وَكِيعٌ : الْقَيْظُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ - قَالَ : " قُمْ فَأَعْطِهِمْ " . قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمْعًا وَطَاعَةً . قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَصَعِدَ بِنَا إِلَى غُرْفَةٍ لَهُ ، فَأَخْرَجَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْرَتِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ . قَالَ دُكَيْنٌ : فَإِذَا فِي الْغُرْفَةِ مِنَ التَّمْرِ شَبِيهٌ بِالْفَصِيلِ الرَّابِضِ . قَالَ : شَأْنُكُمْ . قَالَ : فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حَاجَتَهُ مَا شَاءَ . قَالَ : فَالْتَفَتُّ وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِهِمْ فَكَأَنَّا لَمْ نُرْزَأْ مِنْهُ تَمْرَةً . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا دکین بن سعید خثعمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم چار سو چالیس افراد تھے ، ہم نے آپ سے اناج مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اُٹھو اور انہیں ادائیگی کرو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ میرے پاس صرف اتنی کھجوریں ہیں ، جو میرے لئے اور بچوں کے لئے کچھ عرصے کے لئے کافی ہوں گی ، وکیع نامی راوی کہتے ہیں : عربوں کے محاور ے میں لفظ ” قیظ “ کا مطلب چار ماہ ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُٹھو اور انہیں ادائیگی کرو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کا حکم مانتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے ، ان کے ساتھ ہم بھی اُٹھے ، وہ ہمیں لے کر اپنے بالاخانے پر چڑھ گئے ، انہوں نے اپنے پہلو میں سے چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا ، سیدنا دکین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس کمرے میں اتنی کھجوریں ہوں گی ، جو کم عمر اونٹ کی مانند ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ لے لو ! راوی کہتے ہیں : ہم میں سے ہر ایک شخص نے اپنی حاجت کے مطابق جتنی چاہیں اتنی کھجوریں لے لیں ، راوی کہتے ہیں : جب میں نے توجہ کی ، تو میں ان لوگوں میں لینے والے آخری افراد میں سے تھا ، اور گویا ہم نے ان کھجوروں میں کوئی کمی نہیں کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔