مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مُعْجِزَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الطَّعَامِ وَبَرَكَتِهِ فِيهِ . باب: کھانے کے بارے میں ، نبی اکرم ﷺ کا معجزہ ، اور اس میں آپ کی برکت کا بیان
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْعَدُوَّ قَدْ حَضَرَ وَهُمْ شِبَاعٌ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : أَلَا نَنْحَرُ نَوَاضِحَنَا فَنُطْعِمُهَا النَّاسَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ طَعَامٍ فَلْيَجِئْ بِهِ " . فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْمُدِّ وَالصَّاعِ وَأَكْثَرَ وَأَقَلَّ ، فَكَانَ جَمِيعُ مَا فِي الْجَيْشِ بِضْعَةً وَعِشْرِينَ صَاعًا ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جَنْبِهِ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذُوا وَلَا تَنْتَهِبُوا " . فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ فِي جِرَابِهِ وَفِي غِرَارَتِهِ ، وَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْبُطُ كُمَّ قَمِيصِهِ فَيَمْلَأَهُ ، فَفَرَغُوا وَالطَّعَامُ كَمَا هُوَ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، لَا يَأْتِي بِهَا عَبْدٌ مُحِقٌّ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ حَرَّ النَّارِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي عَمْرَةَ فِي الْإِيمَانِ فِي أَوَّلِ بَابٍ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لے رہے تھے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دشمن قریب آ چکا ہے ، وہ لوگ سیر ہوں گے اور ہم لوگ بھوکے ہوں گے ، انصار نے کہا: کیا ہم اپنی اونٹنیوں کو ذبح نہ کر لیں ؟ اس طرح ہم لوگوں کو کھانا کھلا دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے پاس اضافی کھانا موجود ہو ، وہ اسے لے آئے ، تو کوئی شخص ایک مد لے آیا ، کوئی ایک صاع لے آیا ، کوئی اس سے زیادہ ، یا اس سے کم لے کے آیا ، لشکر میں جو کچھ بھی تھا ، وہ سارا ملا کے بیس صاع سے کچھ زیادہ بنا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ایک طرف بیٹھ گئے ، آپ نے برکت کی دعا کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ لینا شروع کرو ! لیکن لوٹ مار نہ کرنا ، تو کوئی شخص اپنے تھیلے میں بھر لیتا تھا ، کوئی شخص برتن میں بھر لیتا تھا ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے وہ سامان اپنے برتنوں میں ڈال لیا ، یہاں تک کہ ایک شخص نے اپنی قمیص کی آستین کو باندھا اور اسے بھر لیا ، جب وہ لوگ یہ لے کر فارغ ہوئے ، تو وہ کھانا اُسی طرح تھا ، جیسے پہلے تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے ، جو بھی بندہ اس کلمے کے ہمراہ آئے گا ، جبکہ وہ اس پر حقیقی طور پر ایمان رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی گرمی سے بچا لے گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ عمری ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الایمان میں ، پہلے باب میں ، سیدنا ابوعمرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔