مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مُعْجِزَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الطَّعَامِ وَبَرَكَتِهِ فِيهِ . باب: کھانے کے بارے میں ، نبی اکرم ﷺ کا معجزہ ، اور اس میں آپ کی برکت کا بیان
وَعَنْ أَبِي حُبَيْشٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تِهَامَةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِفُسْطَاطٍ جَاءَهُ الصَّحَابَةُ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَهَدَنَا الْجُوعُ فَائْذَنْ لَنَا فِي الظَّهْرِ نَأْكُلُهُ . قَالَ : " نَعَمْ " . فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَاذَا صَنَعْتَ ؟ أَمَرْتَ النَّاسَ أَنْ يَنْحَرُوا الظَّهْرَ فَعَلَى مَا يَرْكَبُونَ ؟ قَالَ : " فَمَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ " . قَالَ : أَرَى أَنْ تَأْمُرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَتَجْمَعَهُ فِي تَوْرٍ ، ثُمَّ تَدْعُو اللَّهَ لَهُمْ . فَأَمَرَهُمْ ، فَجَعَلُوا فَضْلَ أَزْوَادِهِمْ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ دَعَا لَهُمْ . ثُمَّ قَالَ : " ائْتُوا بِأَوْعِيَتِكُمْ " . فَمَلَأَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وِعَاءَهُ . ثُمَّ أَمَرَ بِالرَّحِيلِ ، فَلَمَّا جَاوَزَ وَانْتَظَرُوا فَنَزَلُوا ، فَنَزَلَ وَنَزَلُوا مَعَهُ ، فَشَرِبَ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ ، فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فَجَلَسَ اثْنَانِ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَهَبَ الْآخَرُ مُعْرِضًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ ؟ أَمَّا وَاحِدٌ فَاسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَقْبَلَ تَائِبًا فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ فَقَالَ : " مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ " . قَالَ : أَرَى أَنْ تَأْمُرَهُمْ وَأَنْتَ أَفْضَلُ رَأْيًا . وَزَادَ أَيْضًا : وَنَزَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزَلُوا مَعَهُ ، وَشَرِبُوا مِنَ الْمَاءِ هُمْ وَالْكُرَاعُ ، ثُمَّ خَطَبَهُمْ فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوحبیش غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ غزوہ تہامہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، یہاں تک کہ جب ہم لوگ عسفان کے مقام پر پہنچے ، تو صحابہ کرام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں بھوک کے حوالے سے پریشانی کا سامنا ہے ، آپ ہمیں سواریوں کے بارے میں اجازت دیجئے کہ ہم انہیں ( ذبح کر کے ، ان کا گوشت ) کھا لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں پتہ چلا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ آپ نے لوگوں کو یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ سواریاں ذبح کر لیں ؟ تو پھر وہ سواری کس پر کریں گے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن خطاب ! پھر تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرا یہ خیال ہے کہ آپ لوگوں کو یہ ہدایت کریں کہ اُن کے پاس زاد سفر میں سے جو کچھ بچا ہوا ہے ، وہ لے آئیں ، پھر آپ اسے ایک کپڑے میں جمع کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کریں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا ، انہوں نے بچا ہوا زاد سفر ایک کپڑے میں ڈالا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی ، پھر آپ نے فرمایا : اپنے برتن لے آؤ ! تو ان میں سے ہر ایک فرد نے اپنا برتن بھر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا حکم دیا ، جب وہ لوگ آگے گئے ، تو بارش شروع ہو گئی ، ان لوگوں نے پڑاؤ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا ، آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی پڑاؤ کیا ، لوگوں نے آسمان سے نازل ہونے والا پانی پیا ، پھر تین افراد آئے ، دو افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھ گئے ، اور تیسرا فرد منہ پھیر کے چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں ان تین افراد کے بارے میں بتاؤں ؟ ان میں سے ایک شخص نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی حیاء کو قبول کیا ، ان میں سے دوسرا شخص توبہ کرنے والے کے طور پر آیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول کیا ، اور تیسرا شخص ، اُس نے منہ پھیر لیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اے ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرا یہ خیال ہے کہ آپ لوگوں کو یہ ہدایت کر دیں ، ویسے آپ کی رائے بہتر ہے ۔ “ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ بھی زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی پڑاؤ کیا اور لوگوں نے پانی پیا ، جبکہ وہ تھیلی میں پانی لینے والے تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطبہ دیتے ہوئے تین افراد کا ذکر کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔