حدیث نمبر: 14109
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فِيهِمْ رَهْطٌ كُلُّهُمْ يَأْكُلُ الْجَذَعَةَ وَيَشْرَبُ الْفَرَقَ قَالَ : فَصَنَعَ لَهُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَبَقِيَ الطَّعَامُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ ، ثُمَّ دَعَا بِغَمْرٍ فَشَرِبُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَبَقِيَ الشَّرَابُ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ وَلَمْ يُشْرَبْ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَيْكُمْ خَاصَّةً وَإِلَى النَّاسِ بِعَامَّةٍ ، وَقَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَا رَأَيْتُمْ ، فَأَيُّكُمْ يُبَايِعُنِي عَلَى أَنْ يَكُونَ أَخِي وَصَاحِبِي ؟ " . قَالَ : فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ . قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ . فَقَالَ : " اجْلِسْ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ أَقْوَمُ إِلَيْهِ ، فَيَقُولُ لِيَ : " اجْلِسْ " حَتَّى إِذَا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدِي . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابوطالب کی اولاد کو جمع کیا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں ) بلایا ، ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے ، جو بکری کا پورا بچہ کھا جاتے تھے ، اور ایک بڑا ڈول پانی کا پی جاتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے ایک مد اناج کے ذریعے کھانا پکایا ، انہوں نے وہ کھا لیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، پھر بھی کھانا اسی طرح رہ گیا تھا ، جس طرح پہلے تھا ، یوں جیسے اسے ہاتھ ہی نہ لگا ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پانی کا ) چھوٹا پیالہ منگوایا ، ان لوگوں نے اسے پیا ، یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے اور مشروب پھر بھی اس طرح بچ گیا ، جیسے اسے ہاتھ بھی نہ لگایا گیا ہو ، یا اسے پیا بھی نہ گیا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اولاد عبدالمطلب ! مجھے خصوصی طور پر تمہاری طرف اور عمومی طور پر لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ، تم نے یہ نشانی ( یعنی معجزہ ) دیکھ لیا ہے ، جو دیکھا ہے ، تو تم میں سے کون میری اس بات پر بیعت کرے گا ؟ کہ وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی بنے گا ؟ راوی کہتے ہیں : تو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا نہیں ہوا ، میں آپ کے سامنے کھڑا ہوا ، حالانکہ میں اُن سب میں کمسن تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، ہر مرتبہ میں ہی کھڑا ہوتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرماتے تھے : تم بیٹھ جاؤ ! یہاں تک کہ جب تیسری مرتبہ ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14109
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1371)»