حدیث نمبر: 14110
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : ( وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، اصْنَعْ رِجْلَ شَاةٍ بِصَاعٍ مِنْ طَعَامٍ ، وَاجْمَعْ لِي بَنِي هَاشِمٍ " . وَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَرْبَعُونَ رَجُلًا أَوْ أَرْبَعُونَ غَيْرَ رَجُلٍ . قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالطَّعَامِ فَوَضَعَهُ بَيْنَهُمْ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَإِنَّ مِنْهُمْ لَمَنْ يَأْكُلُ الْجَذَعَةَ بِإِدَامِهَا ، ثُمَّ تَنَاوَلَ الْقَدَحَ فَشَرِبُوا مِنْهُ حَتَّى رَوَوْا - يَعْنِي مِنَ اللَّبَنِ - فَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَا رَأَيْنَا كَالسِّحْرِ ، يَرَوْنَ أَنَّهُ أَبُو لَهَبٍ الَّذِي قَالَهُ . فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ اصْنَعْ ، رِجْلَ شَاةٍ بِصَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَأَعْدِدْ قَعْبًا مِنْ لَبَنٍ " . قَالَ : فَفَعَلْتُ ، فَأَكَلُوا كَمَا أَكَلُوا فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ ، وَشَرِبُوا كَمَا شَرِبُوا فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى ، وَفَضَلَ كَمَا فَضَلَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى ، فَقَالَ : مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ فِي السِّحْرِ . فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ اصْنَعْ رِجْلَ شَاةٍ بِصَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَأَعْدِدْ قَعْبًا مِنْ لَبَنٍ " . فَفَعَلْتُ . فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ اجْمَعْ لِي بَنِي هَاشِمٍ " . فَجَمَعْتُهُمْ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا فَبَدَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يَقْضِي عَنِّي دَيْنِي ؟ " . قَالَ : فَسَكَتَ ، وَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَأَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَنْطِقَ فَقُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " أَنْتَ يَا عَلِيُّ ، أَنْتَ يَا عَلِيُّ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ أَيْضًا ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَرِيكٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اور تم اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ ! “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! ایک صاع اناج کے ذریعے بکری کی ٹانگ پکاؤ ، اور بنو ہاشم کو میرے لئے اکٹھا کر دو ، جن کی تعداد اس وقت چالیس تھی ، یا چالیس سے ایک آدھ فرد کم تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا اور وہ ان کے سامنے رکھا ، انہوں نے اسے کھایا اور وہ سیر ہو گئے ، حالانکہ ان میں ایسا فرد بھی تھا ، جو سالن سمیت پورا جذعہ کھا جاتا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ آگے کیا ، انہوں نے اس میں سے پی لیا ، یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے ، راوی کہتے ہیں : یعنی دودھ پی کر سیراب ہو گئے ، ان میں سے بعض نے کہا: ہم نے اس طرح کا جادو کبھی نہیں دیکھا ، راویوں کا خیال ہے : یہ بات ابولہب نے کہی تھی ، ( اگلے دن ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! ایک صاع اناج کے ہمراہ بکری کی ٹانگ پکڑاؤ ، اور دودھ کا پیالہ پکڑاؤ ، راوی کہتے ہیں : ان لوگوں نے کھانا کھا لیا ، جس طرح پہلے دن کھایا تھا ، اور اسی طرح پی لیا ، جس طرح پہلی مرتبہ پیا تھا اور پھر بھی وہ کھانا اسی طرح بچ گیا ، جس طرح پہلی مرتبہ بچا تھا ، تو انہوں نے یہی کہا: کہ ہم نے آج کی طرح کا جادو نہیں دیکھا ( پھر ایک دن ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! اناج کے ایک صاع کے ہمراہ بکری کی ایک ٹانگ پکڑاؤ ، اور دودھ کا برتن تیار کرو ، تو میں نے ایسا ہی کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! بنو ہاشم کو میرے لئے اکٹھا کرو ، میں نے انہیں اکٹھا کیا ، انہوں نے کھایا اور پیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور آپ نے فرمایا : ” تم میں سے کون میری طرف سے میرا قرض ادا کرے گا ؟ راوی کہتے ہیں : تو میں خاموش رہا ، لوگ بھی خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تم کرو گے ، اے علی ! تم کرو گے ، اے علی ! تم کرو گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال اور بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شریک کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2418 و 2417) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1992) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2111/1)»