مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مُعْجِزَاتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَاءِ وَنَبْعِهِ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ . باب: پانی سے متعلق ، اور آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے سے متعلق آپ ﷺ کے معجزات کا بیان
وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ ، فَإِذَا هُوَ يَسْنُو فِيهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَجْعَلُ لِي إِنْ أَرْوَيْتُ حَائِطَكَ هَذَا ؟ " . قَالَ : إِنِّي أَجْهَدُ أَنْ أَرْوِيهِ فَلَا أُطِيقُ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجْعَلُ لِي مِائَةَ تَمْرَةٍ أَخْتَارُهَا مِنْ تَمْرِكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْغَرْبَ فَمَا لَبِثَ أَنْ أَرَوَاهُ حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ : غَرَّقْتَ عَلَيَّ حَائِطِي . فَاخْتَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةَ تَمْرَةٍ . قَالَ : فَأَكَلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ مِائَةَ تَمْرَةٍ كَمَا أَخَذَهَا مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَقَدْ ذُكِرَ لِأَبِي عِمْرَانَ تَرْجَمَةٌ . ¤سیدنا ابورجاء بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ آپ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے ، وہ وہاں پانی لگا رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اگر میں تمہارے باغ کو پانی لگا دوں ، تو تم مجھے کیا معاوضہ دو گے ؟ اس نے کہا: میں بھرپور کوشش کر رہا ہوں کہ اسے سیراب کر دوں ، لیکن میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم مجھے ایک سو کھجوریں دے دینا ، جو میں تمہاری کھجوروں میں سے منتخب کر لوں گا ، اُس نے کہا: ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول لیا اور پھر اس باغ کو سیراب کر دیا ، یہاں تک کہ وہ شخص کہنے لگا : آپ تو میرا باغ ڈبو دیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو کھجوریں وصول کر لیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے کھائیں ، یہاں تک کہ وہ سب لوگ سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک سو کھجوریں ہی واپس کر دیں ، جس طرح اُس سے لی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، یہ روایت ابوعمران کے حالت کے ضمن میں نقل کی گئی ہے ۔