مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مُعْجِزَاتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَاءِ وَنَبْعِهِ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ . باب: پانی سے متعلق ، اور آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے سے متعلق آپ ﷺ کے معجزات کا بیان
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ فَأَتَيْنَا عَلَى رَكِيَّةٍ ذَمَّةٍ - أَيْ قَلِيلَةِ الْمَاءِ - قَالَ : فَنَزَلَ فِيهَا سِتَّةٌ أَنَا سَادِسُهُمْ مَاحَّةً . قَالَ : فَأُدْلِيَتْ إِلَيْنَا دَلْوٌ . قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ . قَالَ : فَجَعَلْنَا فِيهَا نِصْفَهَا أَوْ قَرِيبَ ثُلُثَيْهَا ، فَرُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ الْبَرَاءُ : فَجِئْتُ بِإِنَائِي هَلْ أَجِدُ شَيْئًا أَجْعَلُهُ فِي حَلْقِي فَمَا وَجَدْتُ ، فَرَفَعْتُ الدَّلْوَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، فَأُعِيدَتْ إِلَيْنَا الدَّلْوُ بِمَا فِيهَا . قَالَ : فَقَدْ رَأَيْتُ آخِرَنَا أُخْرِجَ بِقُوَّةٍ خَشْيَةَ الْغَرَقِ . قَالَ : ثُمَّ سَاحَتْ يَعْنِي جَرَتْ نَهْرًا . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ فِي غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہم ایک ایسے کنویں کے پاس آئے جس میں پانی کم تھا ، راوی کہتے ہیں : اس میں چھ افراد اترے ، جن میں چھٹا فرد میں تھا ، وہ کنواں خشک تھا ، راوی کہتے ہیں : ہماری طرف ایک ڈول لٹکایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کے کنارے پر موجود تھے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے اس ڈول کو نصف ، یا دو تہائی کے قریب بھر دیا ، پھر اس ڈول کو اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جایا گیا ، سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اپنے برتن کے ذریعے کوشش کی کہ کاش مجھے کچھ مل جائے ، تاکہ وہ میں اپنے حلق میں ڈالوں ، لیکن مجھے کچھ نہیں ملا ، وہ ڈول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلند ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس میں ڈبویا ، پھر جو اللہ کو منظور تھا ، وہ پڑھا ، پھر وہ ڈول ہماری طرف واپس بھیج دیا اور اس میں موجود پانی بھی بھیج دیا ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ ہم میں سے جو آخری فرد نکلا تھا ، اُسے کپڑے سے پکڑ کر نکالا گیا تھا ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ اُس میں ڈوب نہ جائے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی پھر وہاں سے پانی پھوٹ پڑا تھا ، یعنی نہر جاری ہو گئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ ، غزوہ حدیبیہ کے بارے میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔