حدیث نمبر: 14104
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ : " مَا مِنْ مَاءٍ ؟ " . قَالُوا : لَا فَقَالَ : " هَلْ مِنْ شَنٍّ ؟ " . فَجَاءُوا بِشَنٍّ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ فَرَّقَ أَصَابِعَهُ ، فَنَبَعَ الْمَاءُ مِثْلَ عَصَا مُوسَى مِنْ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا بِلَالُ اهْتِفْ بِالنَّاسِ بِالْوُضُوءِ " . فَأَقْبَلُوا يَتَوَضَّئُونَ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ هِمَّةُ ابْنِ مَسْعُودٍ الشُّرْبَ فَلَمَّا تَوَضَّئُوا صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ ، ثُمَّ قَعَدَ لِلنَّاسِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَعْجَبُ إِيمَانًا ؟ " . قَالُوا : الْمَلَائِكَةُ . قَالَ : " وَكَيْفَ لَا تُؤْمِنُ الْمَلَائِكَةُ وَهُمْ يُعَايِنُونَ الْأَمْرَ ؟ " . قَالُوا : فَالنَّبِيُّونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ النَّبِيُّونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ " . قَالُوا : فَأَصْحَابُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ أَصْحَابِي وَهُمْ يَرَوْنَ مَا يَرَوْنَ ، وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِي يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي ، وَيُصَدِّقُونِي وَلَمْ يَرَوْنِي ، أُولَئِكَ إِخْوَانِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَانْفَجَرَ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ . وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا پانی نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا کوئی مشکیزہ ہے ؟ لوگ ایک مشکیزہ لے کر آئے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا ، پھر آپ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا ، پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو پھیلایا ، تو ان میں سے یوں پانی پھوٹ پڑا ، جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے عصا مارنے سے پھوٹا تھا ، وہ پانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پھوٹا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! لوگوں میں وضو کا اعلان کر دو ! لوگ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے نکلنے والے پانی سے وضو کرنے لگے ، اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے پی بھی لیا ، جب ان لوگوں نے وضو کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صبح کی نماز پڑھائی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لئے بیٹھ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو ! ایمان کے اعتبار سے ، سب سے زیادہ حیرت انگیز کون ہے ؟ لوگوں نے کہا: فرشتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیسے ؟ فرشتے تو ایسی حالت میں ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اصل معاملے کا معائنہ کر رہے ہوتے ہیں ، پھر لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انبیاء ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیسے ؟ انبیاء کیوں ایمان نہ لائیں ؟ جبکہ ان پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اصحاب ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے اصحاب کیوں ایمان نہ لائیں ؟ جبکہ وہ دیکھتے ہیں ، جو دیکھتے ہیں ( یعنی معجزات دیکھتے ہیں ) ایمان کے اعتبار سے ، سب سے زیادہ حیرت انگیز وہ لوگ ہوں گے ، جو میرے بعد آئیں گے اور وہ مجھ پر ایمان رکھیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوا ہو گا ، اور وہ میری تصدیق کریں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوا ہو گا ، اور وہ لوگ میرے بھائی ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے بھی یہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اسے امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14104
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2415) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12560) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2268 و 2991)»