مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مُعْجِزَاتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَاءِ وَنَبْعِهِ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ . باب: پانی سے متعلق ، اور آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے سے متعلق آپ ﷺ کے معجزات کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَ جَيْشًا إِلَى الْمُشْرِكِينَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، أَمَرَهُمَا وَالنَّاسَ كُلَّهُمْ قَالَ لَهُمْ : " أَجِدُّوا السَّيْرَ ; فَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ مَاءٌ ، إِنْ سَبَقَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَاءِ شَقَّ عَلَى النَّاسِ ، وَعَطِشْتُمْ عَطَشًا شَدِيدًا أَنْتُمْ وَدَوَابُّكُمْ وَرِكَابُكُمْ " . وَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَمَانِيَةٍ هُوَ تَاسِعُهُمْ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَلْ لَكُمْ أَنْ نُعَرِّسَ قَلِيلًا ثُمَّ نَلْحَقَ بِالنَّاسِ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَرَّسُوا فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ . فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ لَهُمْ : " قُومُوا وَاقْضُوا حَاجَتَكُمْ " . فَفَعَلُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ ؟ " . قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ . قَالَ : " جِئْ بِهَا " . فَجَاءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَهَا بِكَفَّيْهِ ، وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " تَعَالَوْا فَتَوَضَّئُوا " . فَجَاءُوا فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَضَّئُوا ، وَأَذَّنَ رَجُلٌ مِنْهُمْ وَأَقَامَ . قَالَ : فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ لِصَاحِبِ الْمِيضَأَةِ : " ازْدَهِرْ بِمِيضَأَتِكَ فَسَيَكُونَ لَهَا نَبَأٌ " . فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ قَبْلَ النَّاسِ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " مَا تَرَوْنَ النَّاسَ فَعَلُوا ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ فِيهِمْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَسَيُرْشِدَانِ النَّاسَ " . فَقَدِمَ النَّاسُ وَقَدْ سَبَقَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَاءِ فَشَقَّ عَلَى النَّاسِ وَعَطِشُوا عَطَشًا شَدِيدًا ، وَرِكَابُهُمْ وَدَوَابُّهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ صَاحِبُ الْمِيضَأَةِ ؟ " . قَالَ : هَا هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : جِئْ بِمَيْضَأَتِكَ فَجَاءَ بِهَا وَفِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ لَهُمْ كُلِّهِمْ : " تَعَالَوْا فَاشْرَبُوا " . فَجَعَلَ يَصُبُّ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ ، وَسَقَوْا دَوَابَّهُمْ وَرِكَابَهُمْ ، وَمَلَئُوا كُلَّ إِدَاوَةٍ وَقِرْبَةٍ وَمَزَادَةٍ ، ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْمُشْرِكِينَ . فَبَعَثَ اللَّهُ رِيحًا فَضَرَبَتْ وُجُوهَ الْمُشْرِكِينَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَصْرَهُ ، وَأَمْكَنَ مِنْ أَدْبَارِهِمْ ، فَقَتَلُوا مِنْهُمْ مَقْتَلَةً عَظِيمَةً ، وَأَسَرُوا أَسْرَى كَثِيرَةً ، وَاسْتَاقُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً ، وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ وَافْرِينَ صَالِحِينَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمٍ الضَّبِّيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف ایک لشکر بھیجا ، جن میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو امیر مقرر کیا تھا ، اور باقی لوگ بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : تم لوگوں نے تیزی سے سفر کرنا ہے ، کیونکہ تمہارے اور مشرکین کے درمیان ایک پانی کا مقام ہے ، اگر مشرکین پہلے اس مقام تک پہنچ گئے ، تو ( تم ) لوگوں کے لیے یہ بات گراں ہو گی ، اور لوگ بہت شدید پیاس کا شکار ہو جائیں گے ، تم بھی ، تمہارے جانور بھی اور تمہاری سواریاں بھی پیاس کا شکار ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ افراد سمیت پیچھے رہ گئے ، نویں فرد آپ تھے ، آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کیا تم لوگ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ ہم رات کے وقت تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کر لیں ، پھر ہم لوگوں کے ساتھ جا ملیں گے ، لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے ، ان لوگوں نے رات کے وقت پڑاؤ کیا اور پھر وہ لوگ سورج کی تپش سے بیدار ہوئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیدار ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اُٹھو اور قضائے حاجت کر لو ! ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، پھر وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک برتن ہے ، جس میں تھوڑا سا پانی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے لے آؤ ! وہ شخص اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کے ذریعے ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : آگے آؤ ! اور وضو کر لو ! لوگ آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر پانی ڈالنے لگے ، یہاں تک ان لوگوں نے وضو کر لیا ، ان میں سے ایک شخص نے اذان دی اور اقامت کہی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ نے اس برتن والے شخص سے فرمایا : تم اپنے برتن کو سنبھال کے رکھنا ، اس کے حوالے سے ایک نمایاں چیز سامنے آئے گی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب لوگوں سے پہلے سوار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ انہوں نے کیا ، کیا ہو گا ؟ ان لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں ابوبکر اور عمر ہیں ، وہ لوگوں کی رہنمائی کر لیں گے ، پھر لوگ آ گئے ، مشرکین پہلے ہی پانی تک پہنچ گئے تھے ، یہ بات لوگوں پر گراں گزری ، وہ شدید پیاس کا شکار تھے ، ان کی سواریاں اور جانور بھی پیاسے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ برتن والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ یہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا برتن لے کر آؤ ! وہ لے کر آیا ، اس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں سے فرمایا : تم لوگ آگے آؤ ! اور پانی پیو ! راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے پانی ڈالنا شروع کیا ، یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے پانی پی لیا اور اپنی سواریوں اور جانوروں کو بھی پلا دیا ، اور اپنے پاس موجود ہر برتن ، ہر چھوٹا بڑا مشکیزہ بھی بھر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مشرکین کی طرف روانہ ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا کو بھیجا ، جس نے مشرکین کو پسپا کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد نازل کر دی اور یہ ممکن کر دیا کہ انہیں لوٹا دیا جائے ، مسلمانوں نے ان میں سے بہت سے لوگوں کو قتل کیا ، کئی لوگوں کو قیدی بنایا ، اور ان سے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگ واپس آئے ، تو ان کے پاس بہت سا ساز و سامان تھا اور وہ ٹھیک تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن ضبی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔