مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ تَسْبِيحِ الْحَصَى . باب: کنکریوں کا تسبیح پڑھنا
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ جَالِسًا وَحْدَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَاغْتَنَمْتُ ذَلِكَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ عُثْمَانَ فَقَالَ : لَا أَقُولُ لِعُثْمَانَ أَبَدًا إِلَّا خَيْرًا ، لِشَيْءٍ رَأَيْتُهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنْتُ أَتَّبِعُ خَلَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَعَلَّمُ مِنْهُ ، فَذَهَبْتُ يَوْمًا فَإِذَا هُوَ قَدْ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ ، فَجَلَسَ فِي مَوْضِعٍ فَجَلَسْتُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ مَا جَاءَ بِكَ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ . قَالَ : فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَسَلَّمَ وَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : " مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ . قَالَ : فَجَاءَ عُمَرُ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : " يَا عُمَرُ مَا جَاءَ بِكَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ عُمَرَ فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ مَا جَاءَ بِكَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ . قَالَ : فَتَنَاوَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَ حَصَيَاتٍ أَوْ تِسْعَ حَصَيَاتٍ ، فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ حَتَّى سَمِعْتُ لَهُنَّ حَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرِسْنَ ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ ، حَتَّى سَمِعْتُ لَهُنَّ حَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرِسْنَ ، ثُمَّ تَنَاوَلَهُنَّ فَوَضَعَهُنَّ فِي يَدِ عُثْمَانَ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ حَتَّى سَمِعْتُ لَهُنَّ حَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرِسْنَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعُفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْخِلَافَةِ لَهُ طَرِيقٌ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَيْضًا وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِيهَا : يَعْنِي الْخِلَافَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ فِي إِحْدَى طَرِيقَيْهِ : يَسْمَعُ تَسْبِيحَهُنَّ مَنْ فِي الْحَلْقَةِ فِي كُلِّ وَاحِدٍ ، وَقَالَ : ثُمَّ دَفَعَهُنَّ إِلَيْنَا فَلَمْ يُسَبِّحْنَ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا . ¤سوید بن زید بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مسجد میں اکیلے بیٹھے ہوئے دیکھا ، تو میں نے اس کو غنیمت سمجھا ، میں ان کے پاس آ کے بیٹھا ، میں نے ان کے سامنے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہمیشہ بھلائی کی بات کہتا رہوں گا ، اس کی وجہ ایک بات ہے کہ میں نے انہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیکھا تھا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تنہا ہونے کا انتظار کرتا رہتا تھا ، تاکہ میں آپ سے کوئی چیز سیکھ لوں ، ایک دن میں گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر نکلے تھے میں آپ کے پیچھے چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ پر آ کے تشریف فرما ہوئے ، میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابوذر ! تم کس غرض سے آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کے لئے ، راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے سلام کیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابوبکر ! تم کس لئے آئے ہو ، انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کے لئے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عمر ! تم کس لئے آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کے لئے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عثمان ! تم کس لئے آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کے لئے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) نو کنکریاں پکڑیں ، اُن کنکریوں نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی ، یہاں تک کہ میں نے ان کی آواز سنی ، یوں جیسے شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے ، پھر آپ نے انہیں رکھ دیا ، تو وہ خاموش ہو گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رکھا ، تو انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی ، یہاں تک کہ مجھے ان کی آواز آئی ، کیوں جیسے شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے ، پھر انہوں نے اسے رکھا ، تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑا اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رکھ دیں ، تو وہ اس کے ہاتھ میں تسبیح پڑھنے لگیں ، یہاں تک کہ مجھے ان کی آواز آئی ، جس طرح شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے ، پھر انہوں نے اسے رکھا ، تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑا اور وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رکھ دیں ، تو ان کنکریوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں تسبیح پڑھی یہاں تک کہ مجھے اُن کی آواز آئی ، جس طرح شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں رکھا ، تو وہ خاموش ہو گئیں ۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے خلافت سے متعلق باب میں ، ان صحابی کے حوالے سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت گزر چکی ہے ، زہری نے اس میں یہ کہا: ہے : یہ خلافت کی طرف اشارہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے دو میں سے ایک سند میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” حلقے میں موجود ہر فرد نے ان کی تسبیح سنی ، اور راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہمیں دیں ، تو انہوں نے ہم میں سے کسی کے ساتھ تسبیح نہیں پڑھی ۔ “