مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا بُنِيَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامُ . باب: ان امور کا بیان، جن پر اسلام کی بنیاد ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عُرَى الْإِسْلَامِ وَقَوَاعِدُ الدِّينِ ثَلَاثَةٌ ، عَلَيْهِنَّ أُسِّسَ الْإِسْلَامُ ، مَنْ تَرَكَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ فَهُوَ بِهَا كَافِرٌ حَلَالُ الدَّمِ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَالصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ " . ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَجِدُهُ كَثِيرَ الْمَالِ لَا يُزَكِّي فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ كَافِرًا وَلَا يَحِلُّ دَمُهُ ، وَتَجِدُهُ كَثِيرَ الْمَالِ لَمْ يَحُجَّ فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ كَافِرًا وَلَا يَحِلُّ دَمُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِلَفْظِ : " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَالصَّلَاةِ ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ ، فَمَنْ تَرَكَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ كَانَ كَافِرًا حَلَالَ الدَّمِ " . فَاقْتَصَرَ عَلَى ثَلَاثَةٍ مِنْهَا وَلَمْ يَذْكُرْ كَلَامَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْمَوْقُوفَ . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت منقول ہے : ( یہاں حماد بن زید نامی راوی یہ کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہو گی : ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” اسلام کی رسی اور دین کی بنیاد ، تین چیزیں ہیں ، جن پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے ، جو شخص ان میں سے کوئی ایک ترک کر دے گا ، تو وہ اس کی وجہ سے کافر ہو جائے گا اور اس کا خون بہانا حلال ہو گا ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، فرض نماز ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا“ ۔
پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم کسی شخص کو پاؤ گے ، کہ اس کے پاس بہت سا مال ہو گا ، لیکن وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہو گا ، اور اس حوالے سے وہ کافر ہو گا ، لیکن اس کا خون بہانا حلال نہیں ہو گا ، اسی طرح تم کسی شخص کو پاؤ گے کہ اس کے پاس بہت سا مال ہو گا ، لیکن وہ حج نہیں کرے گا ، تو وہ اس وجہ سے کافر ہو گا ، لیکن اس کا خون بہانا جائز نہیں ہو گا ۔
یہ روایت مکمل طور پر ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، جبکہ امام طبرانی نے معجم کبیر میں ان الفاظ میں نقل کی ہے : ” اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، نماز ادا کرنا رمضان کے روزے رکھنا ، جو شخص ان میں سے کسی ایک کو ترک کر دے گا ، تو وہ کافر ہو گا ، جس کا خون بہانا جائز ہو گا “ ۔ تو امام طبرانی نے صرف یہی تین باتیں ذکر کی ہیں ، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ” موقف “ قول نقل نہیں کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔