حدیث نمبر: 14070
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ يَوْمٌ مِنَ السَّنَةِ تَجْتَمِعُ فِيهِ نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَهُ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ قَالَتْ : وَفِي ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ : " أَسْرَعُكُنَّ لُحُوقًا أَطْوَلُكُنَّ يَدًا " . قَالَتْ : فَجَعَلْنَا نَتَذَارَعُ بَيْنَنَا أَيُّنَا أَطْوَلُ يَدَيْنِ . قَالَتْ : وَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلُهُنَّ يَدًا ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ سَوْدَةُ عَلِمْنَا أَنَّهَا كَانَتْ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا فِي الْخَيْرِ وَالصَّدَقَةِ . قَالَتْ : وَكَانَتْ زَيْنَبُ تَغْزِلُ الْغَزْلَ وَتُعْطِيهِ سَرَايَا النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخِيطُونَ بِهِ وَيَسْتَعِينُونَ بِهِ فِي مَغَازِيهِمْ . قَالَتْ : وَفِي ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ : " كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ يَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج سال میں ایک دن پورا دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتی تھیں ، اسی طرح کے ایک دن میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے سب سے زیادہ لیے ہاتھ والی ، مجھ سے سب سے پہلے آ کے ملے گی ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم نے اپنے ہاتھ ناپنا شروع کیے ، تو سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا تھا ، لیکن جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا ( متن میں اسی طرح مذر ہے ، تاہم لفظ یہ ہے : سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ) کا انتقال ہوا ، تو ہمیں یہ پتہ چلا کہ اُن کا ہاتھ بھلائی اور صدقہ کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ طویل تھا ( اور یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تھی ) ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سوت کاتا کرتی تھیں اور اس کا معاوضہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی مہمات کو دیا کرتی تھیں ، وہ کپڑے سیتی تھیں ، اور اس کے ذریعے غزوات میں مدد فراہم کرتی تھیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” اس وقت تم میں سے کسی ایک کا کیا عالم ہو گا ؟ جب ” حواب“ کے کتے اُس پر بھونکیں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14070
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف