مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ إِخْبَارِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمُغَيَّبَاتِ . باب: نبی اکرم ﷺ کا غیبی امور کے بارے میں خبر دینا
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " هَذِهِ الْحِيرَةُ الْبَيْضَاءُ قَدْ رُفِعَتْ لِي ، وَهَذِهِ الشَّمَّاءُ بَنْتُ بُقَيْلَةَ الْأَزْدِيَّةُ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ مُعْتَجَرِةً بِخِمَارٍ أَسْوَدَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ دَخَلْنَا الْحِيرَةَ وَوَجَدْتُهَا عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ فَهِيَ لِي ؟ قَالَ : " هِيَ لَكَ " . ثُمَّ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ فَلَمْ يَرْتَدَّ أَحَدٌ مِنْ طَيِّئٍ فَكُنَّا نُقَاتِلُ قَيْسًا عَلَى الْإِسْلَامِ وَمِنْهُمْ عُتْبَةُ بْنُ حِصْنٍ وَكُنَّا نُقَاتِلُ طُلَيْحَةَ بْنَ خُوَيْلِدٍ الْفَقْعَسِيَّ فَامْتَدَحَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ فِيمَا قَالَ فِينَا : جَزَى اللَّهُ عَنَّا طَيِّئًا فِي دِيَارِهَا بِمُعْتَرَكِ الْأَبْطَالِ خَيْرَ جَزَاءِ هُمُ أَهْلُ رَايَاتِ السَّمَاحَةُ وَالنَّدَى إِذَا مَا الصَّبَا أَلْوَتْ بِكُلِّ خِبَاءِ هُمُ ضَرَبُوا قَيْسًا عَلَى الدِّينِ بَعْدَ مَا أَجَابُوا مُنَادِيَ ظُلْمَةٍ وَعَمَاءِ ثُمَّ سَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ فَسِرْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ أَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ ، فَلَقِينَا هُرْمُزَ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ . فَبَرَزَ لَهُ ابْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ ، فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ ، فَقَتَلَهُ خَالِدٌ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ ، فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَةُ هُرْمُزَ بِمِئَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ وَكَانَتْ الْفُرْسُ إِذَا أَشْرَفَ فِيهَا رَجُلٌ جَعَلُوا قَلَنْسُوَتَهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ سِرْنَا عَلَى طَرِيقٍ حَتَّى دَخَلْنَا الْحِيرَةَ ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ تَلَقَّانَا فِيهَا شَيْمَاءَ بِنْتَ بُقَيْلَةَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهَا شَهْبَاءَ بِخِمَارٍ أَسْوَدَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّقْتُ بِهَا وَقُلْتُ : هَذِهِ وَهَبَهَا لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَانِي خَالِدٌ عَلَيْهَا الْبَيِّنَةَ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَسَلَّمَهَا إِلَيَّ وَنَزَلَ إِلَيْنَا أَخُوهَا عَبْدُ الْمَسِيحِ فَقَالَ لِي : بِعْنِيهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : لَا أَنْقُصُهَا وَاللَّهِ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ شَيْئًا ، فَدَفَعَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَقِيلَ لِي : لَوْ قُلْتَ : مِائَةَ أَلْفٍ ، دَفَعَهَا إِلَيْكَ . فَقُلْتُ : لَا أَحْسَبُ أَنَّ مَالًا أَكْثَرَ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ . وَبَلَغَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الشَّاهِدَيْنِ كَانَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤سیدنا خریم بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ حیرہ ، میرے سامنے بلند ہوا ، اور یہ شیماء بنت بقیلہ ازدیہ ہے ، جو ایک سفید خچر پر سوار ہے ، اور اس نے سیاہ رنگ کی پٹی سر پر باندھی ہوئی ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہم حیرہ میں داخل ہوئے اور میں نے اس خاتون کو ایسی حالت میں پایا ، تو وہ میری ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہاری ہو گی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر عرب مرتد ہو گئے ، لیکن طائی قبیلے کا کوئی فرد مرتد نہیں ہوا ، ہم نے قیس کے ساتھ اسلام کی بنیاد پر جنگ کی ، ان میں ایک عتبہ بن حصن تھا ، ہم نے طلیحہ بن خویلد فقعسی سے جنگ کی ، ہم نے اس حوالے سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور جو کچھ انہوں نے ہمارے بارے میں کہا: تھا ، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے طے قبیلے کو جزائے خیر عطا کرے ، جنہوں نے جنگجو افراد کے میدان میں ، اپنے علاقے میں بھرپور لڑائی کی تھی ، وہ مہربانی کے جھنڈے اٹھانے والے تھے اور آوازیں نکالنے والے تھے ، جب بھی تیز ہوا ، ہر خیمے کو الٹ دیتی تھی ، انہوں نے دین کی وجہ سے قیس قبیلے کے لوگوں پر ضرب لگائی ، اس کے بعد کہ جب اُن ( قیس قبیلے کے ) لوگوں نے ظلمت اور اندھے پن کی دعوت دینے والوں کی بات کو قبول کیا تھا ۔ “ پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مسیلمہ کی طرف روانہ ہوئے ، ہم بھی ان کے ساتھ روانہ ہو گئے ، جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے ، تو ہم بصرہ کے کنارے کی طرف آئے ، وہاں ایک بڑے گروہ میں ہمارا سامنا کا ظمہ کے مقام پر ہرمز سے ہوا ، عربوں کا ہرمز سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں تھا ۔ ابوسکین نامی راوی کہتے ہیں : یہ چیز ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے لوگ کہتے ہیں : یہ ہرمز سے بڑا کافر ہے ۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کے سامنے آئے ، انہوں نے اسے مقابلے کی دعوت دی ، ہرمز ان کے سامنے آیا ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ، انہوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، تو ہرمز کا ساز و سامان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو انعام کے طور پر دیا ، ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی ، ایرانیوں کا یہ معمول تھا ، جب کوئی شخص ان کا سردار بنتا تھا ، تو اُسے ایک لاکھ درہم کی ٹوپی بنا دیتے تھے ۔ پھر ہم ” طف“ کے راستے پر چلتے ہوئے حیرہ کے مقام پر پہنچ گئے ، وہاں ہمارے سامنے سب سے پہلے شیماء بنت بقیلہ نامی خاتون آئی ، جو اپنے سفید خچر پر سوار تھی ، اس نے سیاہ چادر اوڑھی ہوئی تھی ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا ، تو میں نے اس عورت کے بارے میں کہا: یہ عورت اللہ کے رسول نے مجھے ہبہ کی تھی ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مجھ سے ثبوت مانگا ، میں نے انہیں ثبوت پیش کیا ، تو انہوں نے وہ خاتون میرے حوالے کر دی ، اُس خاتون کا بھائی عبدالمسیح ہمارے پاس آیا ، اس نے مجھ سے کہا: تم اس کا میرے ساتھ سودا کر لو ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں ایک ہزار سے کم نہیں کروں گا ، تو اس نے مجھے ایک ہزار دیدیے ، مجھ سے کہا: گیا : اگر تم ایک لاکھ مانگتے تو اُس نے تمہیں وہ بھی دے دینے تھے ، میں نے کہا: مجھے نہیں پتا تھا کہ ایک ہزار سے زیادہ بھی مال ہوتا ہے ۔ اس روایت کے علاوہ ایک روایت میں یہ بات نقل ہوئی ہے : وہ دو گواہ سیدنا محمد بن مسلمہ بن اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔