حدیث نمبر: 14071
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : لَمَّا دَخَلَ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنِّي أَهْدَيْتُ لِلنَّجَاشِيِّ مِسْكًا وَحُلَّةً ، وَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ مَاتَ وَلَا أَرَى هَدِيَّتِي إِلَّا سَتُرَدُّ إِلَيَّ " . قَالَتْ : وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَى نِسَاءَهُ أُوقِيَّةً أُوقِيَّةً وَأَعْطَانِي سَائِرَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأُمُّ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ لَا أَعْرِفُهَا . وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْهَدِيَّةِ فِي الْبَيْعِ مِنْ مُسْنَدِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میری رخصتی کروائی ، تو آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! میں نے نجاشی کو مشک اور ایک حلہ تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ، لیکن میرا خیال ہے ، وہ فوت ہو چکا ہے ، اور میں نے جو تحفہ بھیجا تھا ، اس کے بارے میں ، میرا یہ خیال ہے کہ وہ میرے پاس واپس آ جائے گا ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر اسی طرح ہوا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک اوقیہ دیگر ازواج کو دیا ، اور باقی سارا مشک اور حلہ مجھے دے دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، موسیٰ بن عقبہ کی والدہ سے میں واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس واقعہ کے بارے میں اُم کلثوم کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے جو تحفہ دینے سے متعلق باب میں کتاب خرید و فروخت کے بیان میں ہے ، یہ امام أحمد بن حنبل کی ” مسند “ کے حوالے سے اور دیگر حوالوں سے منقول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14071
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (352/23)»