حدیث نمبر: 14068
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : لَمَّا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ كِسْرَى إِلَى عَامِلِهِ عَلَى أَرْضِ الْيَمَنِ وَمَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ : بَاذَامُ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ خَرَجَ رَجُلٌ قِبَلَكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقُلْ لَهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِ مَنْ يَقْتُلُهُ أَوْ يَقْتُلُ قَوْمَهُ . قَالَ : فَجَاءَ رَسُولُ بَاذَامَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ شَيْءٌ فَعَلْتُهُ مِنْ قِبَلِي كَفَفْتُ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي " . فَأَقَامَ الرَّسُولُ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ رَبِّي قَتَلَ كِسْرَى وَلَا كِسْرَى بَعْدَ الْيَوْمِ ، وَقَتَلَ قَيْصَرَ وَلَا قَيْصَرَ بَعْدَ الْيَوْمِ " . قَالَ : فَكَتَبَ قَوْلَهُ فِي السَّاعَةِ الَّتِي حَدَّثَهُ وَالْيَوْمِ الَّذِي حَدَّثَهُ وَالشَّهْرِ الَّذِي حَدَّثَهُ فِيهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَاذَامَ فَإِذَا كِسْرَى قَدْ مَاتَ وَإِذَا قَيْصَرُ قَدْ قُتِلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَعِنْدَ أَحْمَدَ طَرَفٌ مِنْهُ وَكَذَلِكَ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا ، تو کسریٰ نے یمن اور اس کے آس پاس کے عرب علاقوں میں ، اپنے مقرر کردہ گورنر کی طرف پیغام بھیجا ، اس گورنر کا نام ” باذام “ تھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تمہاری طرف ایک صاحب کا ظہور ہوا ہے ، جو یہ کہتے ہیں : کہ وہ نبی ہیں ، تو تم ان سے کہو کہ یا تو وہ اس بات سے باز آ جائیں یا پھر میں ان کی طرف ایسے افراد کو بھیجوں گا ، جو انہیں اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر دیں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : ” باذام “ کا قاصد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے یہ بات کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ کوئی ایسی چیز ہوتی ، جو میں اپنی طرف سے کر رہا ہوتا ، تو میں نے اس سے باز آ جانا تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے ، وہ قاصد کچھ عرصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقیم رہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا : ” میرے پروردگار نے کسریٰ کو قتل کروا دیا ہے ، اور آج کے بعد کوئی کسریٰ نہیں رہے گا اور قیصر کو قتل کروا دیا ہے ، اور آج کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اُس نے وہ وقت نوٹ کر لیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی اور وہ دن نوٹ کر لیا ، جس دن میں یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، اور وہ مہینہ نوٹ کر لیا ، جس میں یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، وہ بادام کی طرف واپس گیا تو کسریٰ مر چکا تھا اور قیصر قتل ہو چکا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ کثیر بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، امام أحمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اور امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14068
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح