حدیث نمبر: 14067
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ رَفَعَ لِيَ الدُّنْيَا فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا هُوَ كَائِنٌ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى كَفِّي هَذِهِ جَلِيَّانِ جَلَاهُ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا جَلَاهُ لِلنَّبِيِّينَ مِنْ قَبْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ فِي سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيِّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے دنیا کو بلند کیا ، تو میں نے اس کی طرف دیکھ لیا اور قیامت تک جو کچھ اس میں ہو گا ، وہ بھی دیکھ لیا ، یوں جیسے میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ، یہ وہ ظاہر کرنا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے ظاہر کیا ، جس طرح اُس نے اس چیز کو اس سے پہلے کے انبیاء کے لئے ظاہر کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ سعید بن سنان رہادی میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14067
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً