حدیث نمبر: 14066
وَعَنْ أَبَانَ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ سَلْمَانَ قَالَ : كَانَ إِسْلَامُ قُبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ اللَّيْثِيِّ أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْعَرَبِ وَغَيْرِهِمْ أَتَوْهُ فَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ خَرَجَ يَدْعُو إِلَى غَيْرِ دِينِنَا . فَقَامَ قُبَاثُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ : " اجْلِسْ يَا قُبَاثُ " . فَأَوْجَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنْتَ الْقَائِلُ : " لَوْ خَرَجَتْ نِسَاءُ قُرَيْشٍ بِأَجْمَعِهَا رَدَّتْ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ " . فَقَالَ قُبَاثُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا تَحَرَّكَ بِهِ لِسَانِي وَلَا تَرَمْرَمَتْ بِهِ شَفَتَايَ وَلَا سَمِعَهُ مِنِّي أَحَدٌ ، وَمَا هُوَ إِلَّا شَيْءٌ هَجَسَ فِي نَفْسِي ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ الْحَقُّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّةُ الْعَبَّاسِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ . وَقِصَّةُ ذِي الْجَوْشَنِ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ . ¤ وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي قِصَّةِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الَّذِي كَانَ فِي عِيرِ خَدِيجَةَ فِي عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ . وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ فِي مَنَاقِبِهِ . وَغَيْرُ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین

ابان بن سلمان اپنے والد سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا قباث بن اشیم لیثی رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ یہ ہے کہ عربوں اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ان کے پاس آئے اور بولے : سیدنا محمد بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ہیں اور وہ ہمارے دین کے علاوہ ، دین کی طرف دعوت دیتے ہیں ، تو قباث اُٹھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے قباث ! بیٹھ جاؤ ! تو وہ غصے کے عالم میں خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم نے ہی یہ بات کہی ہے کہ اگر قریش کی ساری عورتیں نکل آئیں تو وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اُن کے ساتھیوں کو واپس کر دیں گی ، قباث نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اس بارے میں میری زبان نے حرکت نہیں کی ، میرے ہونٹوں نے یہ لفظ ادا نہیں کیے ، اور یہ بات کسی نے مجھ سے نہیں سنی ، یہ تو صرف ایک ایسی بات ہے جو میں نے دل میں سوچی تھی ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور آپ جو لے کر آئے ہیں ، وہ حق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا واقعہ غزوہ بدر سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، اور ” غزوہ فتح “ سے متعلق باب میں ذوالجوشن کا واقعہ گزر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ہے ، جو سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے ، جو سیدنا خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قافلے میں شامل تھے ، یہ مخلوقات کے عجائب سے متعلق باب میں گزرا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ان کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی اور دیگر روایات بھی آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14066
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (35/19)»