حدیث نمبر: 14065
وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ - قَالَ : كَانَ وَهْبُ بْنُ عُمَيْرٍ شَهِدَ أُحُدًا كَافِرًا فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَكَانَ فِي الْقَتْلَى ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَعَرَفَهُ ، فَوَضَعَ سَيْفَهُ فِي بَطْنِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ ثُمَّ تَرَكَهُ ، فَلَمَّا دَخَلَ اللَّيْلُ وَأَصَابَهُ الْبَرْدُ لَحِقَ بِمَكَّةَ فَبَرَأَ ، فَاجْتَمَعَ هُوَ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ ، فَقَالَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ : لَوْلَا عِيَالِي وَدَيْنٌ عَلَيَّ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَقْتُلُ مُحَمَّدًا بِنَفْسِي . فَقَالَ صَفْوَانُ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ ؟ فَقَالَ : أَنَا رَجْلٌ جَوَادٌ لَا أُلْحَقُ ، آتِيهِ فَأَغْتَرُّهُ ثُمَّ أَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ ، ثُمَّ أَلْحَقُ بِالْجَبَلِ وَلَا يَلْحَقُنِي أَحَدٌ . فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ : فَعِيَالُكَ وَدَيْنُكَ عَلَيَّ . فَخَرَجَ فَشَحَذَ سَيْفَهُ وَسَمَّهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا يُرِيدُ إِلَّا قَتْلَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَهَالَهُ ذَلِكَ وَشَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي رَأَيْتُ وَهْبًا قَدِمَ فَرَابَنِي قُدُومُهُ ، وَهُوَ رَجُلٌ غَادِرٌ فَأَطِيفُوا بِنَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَطَافَ الْمُسْلِمُونَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ وَهْبٌ فَوَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَنْعِمْ صَبَاحًا يَا مُحَمَّدُ . فَقَالَ : " قَدْ أَبْدَلَنَا اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا " . فَقَالَ : عَهْدِي بِكَ تُحَدَّثُ بِهَا وَأَنْتَ مُعْجَبٌ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَقْدَمَكَ ؟ " . قَالَ : جِئْتُ أَفْدِي أَسَارَاكُمْ . قَالَ : " مَا بَالُ السَّيْفِ ؟ " . قَالَ : أَمَا إِنَّا قَدْ حَمَلْنَاهَا يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ نَفْلَحْ وَلَمْ نَنْجَحْ . قَالَ : " فَمَا شَيْءٌ قُلْتَ لِصَفْوَانَ وَأَنْتُمَا فِي الْحِجْرِ : لَوْلَا عِيَالِي وَدَيْنِي لَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَقْتُلُ مُحَمَّدًا بِنَفْسِي ؟ " . فَأَخْبَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَبَرَ فَقَالَ وَهْبٌ : هَاهْ كَيْفَ قُلْتَ ؟ فَأَعَادَ عَلَيْهِ . قَالَ وَهْبٌ : قَدْ كُنْتَ تُخْبِرُنَا خَبَرَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَنُكَذِّبُكَ ، فَأَرَاكَ تُخْبِرُ خَبَرَ أَهْلِ السَّمَاءِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي عِمَامَتَكَ . فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِمَامَتَهُ ثُمَّ رَجَعَ رَاجِعًا إِلَى مَكَّةَ . فَقَالَ عُمَرُ : لَقَدْ قَدِمَ وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ إِلَيَّ مِنَ الْخِنْزِيرِ ، ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوعمران جونی بیان کرتے ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہب بن عمیر ، غزوہ اُحد میں کافر ہونے کے طور پر شریک ہوا تھا ، اُسے زخم لاحق ہوئے ، وہ مقتولین میں پڑا ہوا تھا ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس کے پاس سے گزرا ، اس نے اسے پہچان لیا ، اس نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھی اور وہ اس کی پشت سے پار ہو گئی ، پھر اس نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا ، جب رات آئی اور اسے ٹھنڈک لاحق ہوئی ، تو وہ وہاں سے بھاگ کر مکہ چلا گیا اور پھر بعد میں تندرست ہو گیا ، ایک مرتبہ وہ اور صفوان بن امیہ ” حطیم “ میں بیٹھے ہوئے تھے ، اُس نے صفوان بن امیہ سے کہا: اگر میرے بال بچوں کا مسئلہ نہ ہوتا اور میرے ذمہ لازم قرض کا مسئلہ نہ ہوتا ، تو میری یہ خواہش تھی کہ میں وہ فرد بنتا ، جو بذات خود سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دیتا ، صفوان نے کہا: تم نے یہ کیسے کرنا تھا ؟ اس نے کہا: میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو شہسوار ہے ، جس تک پہنچا نہیں جا سکتا ، میں اُن کے پاس جاتا اور دھوکے سے اُن پر تلوار کا وار کر دیتا ، پھر میں پہاڑ پر چلا جاتا ، کوئی شخص مجھ تک نہیں پہنچ سکتا تھا ، تو صفوان نے کہا: پھر تمہارے بال بچے اور تمہارا قرض میرے ذمہ ہے ۔ وہب بن عمیر وہاں سے نکلا ، اُس نے اپنی تلوار کو تیار کیا ، اُس کو زہر میں ڈبویا اور پھر مدینہ منورہ کی طرف نکل کھڑا ہوا ، اُس کا ارادہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا تھا ، جب وہ مدینہ منورہ آیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا ، وہ اس کے حوالے سے پریشان ہو گئے اور یہ بات ان پر گراں گزری ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے کہا: میں نے وہب کو دیکھا ہے کہ وہ آیا ہے ، تو اس کا آنا مجھے شک میں مبتلا کر رہا ہے ، وہ عہد شکن شخص ہے ، تو تم لوگ اپنے نبی کے گرد گھیرا بنا لو ، مسلمانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا بنا لیا ، جب وہب آیا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہرا ، اُس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! صبح کے وقت نعمتیں نصیب ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بدلے میں زیادہ بہتر سلام عطا کر دیا ہے ، اس نے کہا: آپ کے ساتھ میرا جب آخری سامنا ہوا تھا ، تو آپ اُس وقت میری ہی طرح سلام کیا کرتے تھے ، اور آپ پر حیرانگی ہوتی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم کیوں آئے ہو ؟ اس نے کہا: میں آپ کے قیدیوں کا فدیہ دینے کے لئے آیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تلوار کس لئے ہے ؟ اس نے کہا: یہ تلواریں تو ہم نے غزوہ بدر کے دن بھی اُٹھائی ہوئی تھیں ، لیکن نہ ہم کامیاب ہوئے اور نہ ہی ہمیں کامیابی نصیب ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو وہ کیا بات تھی ؟ جو تم نے صفوان سے کہی تھی ، جب تم دونوں ” حطیم “ میں موجود تھے کہ اگر میرے بال بچوں کا اور میرے قرض کا معاملہ نہ ہوتا ، تو میں بذات خود سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دیتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ساری بات بتائی ، تو وہب نے کہا: ارے یہ آپ کیسے بیان کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے بات دہرا دی ، تو اس نے کہا: پہلے آپ ہمیں اہل زمین کی خبریں دیا کرتے تھے ، تو ہم آپ کی بات کو جھٹلاتے تھے ، اور آپ کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ آپ اہل آسمان کے بارے خبریں دے رہے ہیں ، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا عمامہ مجھے دیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عمامہ اُسے دیا اور پھر وہ مکہ واپس چلا گیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب وہ آیا تھا ، تو وہ میرے نزدیک خنزیر سے زیادہ ناپسندیدہ تھا ، جب وہ واپس گیا تو وہ میرے نزدیک میری اولاد سے زیادہ محبوب تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14065
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (61/17)»