مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي صِفَتِهِ وَطِيبِ رَائِحَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: آپ ﷺ کے حلیہ اور آپ ﷺ کی خوشبو کی پاکیزگی کا بیان
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّةً فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ بِمِنَى ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا رَجُلَانِ خَلْفَ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ قَالَ : " عَلَيَّ بِالرَّجُلَيْنِ " . فَجِيءَ بِالرَّجُلَيْنِ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ : " أَمَا صَلَّيْتُمَا مَعَنَا ؟ " . قَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا فِي رِحَالِنَا وَظَنَنَّا أَنَا لَا نُدْرِكُ الصَّلَاةَ قَالَ : " فَلَا تَفْعَلَا ، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلَاةَ فَصَلِّيَا تَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً " . فَقَالَ أَحَدُهُمَا : اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ " . فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ كَأَشَدِّ الرِّجَالِ وَأَقْوَاهُمْ فَزَاحَمْتُ النَّاسَ حَتَّى أَخَذْتُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهَا عَلَى صَدْرِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا كَانَ أَبْرَدَ وَلَا أَطْيَبَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : " تَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ، میں نے آپ کی اقتداء میں ، منیٰ میں فجر کی نماز ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو لوگوں کے پیچھے دو افراد موجود تھے ، جنہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز میں شرکت نہیں کی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کو میرے پاس لے کے آؤ ، ان دونوں کو لایا گیا ، تو ان کے اعضاء کانپ رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اپنی رہائشی جگہ پر تھے ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید ہم نماز تک نہیں پہنچ پائیں گے ( تو ہم نے اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر لی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ! جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو ، پھر تم باجماعت نماز کو پاؤ ، تو اس میں بھی شرکت کرو ، وہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی ان دونوں میں سے ایک نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے ، راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ہجوم کر دیا ، میں اُن دنوں سب سے زیادہ نوجوان اور سب سے زیادہ طاقتور تھا ، میں لوگوں کے درمیان میں سے نکلتا ہوا آیا اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے سینے پر رکھا تو میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ ٹھنڈی اور زیادہ خوشبو والی ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے اس روایت کو ان الفاظ تک نقل کیا ہے : ” وہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔