مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي صِفَتِهِ وَطِيبِ رَائِحَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: آپ ﷺ کے حلیہ اور آپ ﷺ کی خوشبو کی پاکیزگی کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي بِشَيْءٍ فَقَالَ : " مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ وَلَكِنْ إِذَا كَانَ غَدٌ فَتَعَالَ ، فَجِئَ بِقَارُورَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ وَعُودِ شَجَرَةٍ ، وَآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَنِّي أُجِيفُ نَاحِيَةَ الْبَابِ " . فَأَتَاهُ بِقَارُورَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ وَعُودِ شَجَرَةٍ ، فَجَعَلَ يَسْلِتُ الْعَرَقَ مِنْ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى امْتَلَأَتْ فَقَالَ : " خُذْ وَمُرِ ابْنَتَكَ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَطَّيَّبَ أَنْ تَغْمِسَ هَذَا الْعُودَ فِي الْقَارُورَةِ وَتَطَّيَّبَ بِهِ " . قَالَ : فَكَانَتْ إِذَا تَطَيَّبَتْ شَمَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ رَائِحَةَ الطِّيبِ فَسُمُّوا بِبَيْتِ الْمُطَّيِّبِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَلْبَسٌ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتا ہوں ، میری یہ خواہش ہے کہ آپ اس حوالے سے میری کچھ مدد کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے ، لیکن کل تم آنا ، اور ایک شیشی لے کر آنا ، جس کا منہ بڑا ہو اور ساتھ درخت کی ٹہنی لے کر آنا ، میرے اور تمہارے درمیان نشانی یہ ہو گی کہ میں دروازے کے کونے کو بند کر دوں گا ، وہ شخص ایک شیشی لے کر آیا ، جس کا منہ بڑا تھا اور درخت کی ٹہنی لے کر آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلائیوں سے پسینہ اُتار کر اس شیشی کو بھر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ لے لو ! اور اپنی بیٹی سے یہ کہنا کہ جب اس نے خوشبو لگانی ہو تو یہ لکڑی اس شیشی میں ڈبوئے اور پھر اس کے ذریعے خوشبو لگا لے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ خاتون جب خوشبو لگاتی تھی ، تو اہل مدینہ اس خوشبو کو محسوس کرتے تھے اور ان کا گھر ” خوشبو والوں کا گھر “ مشہور ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حلبس کلبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔